امریکی سینیٹ کے 34 ارکان نے فلسطینیوں کے امریکہ داخلے کی مخالفت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی سینیٹ کے 30 سے زیادہ ممبران نے امریکی صدر جو بائیڈن کی غزہ سے فلسطینی پناہ گزینوں کی امریکہ منتقلی کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کے اس تجویز پر عمل درآمد نہ کرنے پر زور دیا ہے۔

انہوں نے ریپبلکن پارٹی کے رہ نما سینیٹ میک کونیل ان کے 33 دیگر ساتھی ارکان نے جانی ارنسٹ کی تجویز کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ریپبلکن پارٹی کے ارکان کی طرف سے اس تجویز کی مخالفت کی جائے گی اور اسے انہوں ںے رواں سال نومبر میں ہونے والے انتخابات سے قبل صدربائیڈن کے لیے ایک نیا سیاسی حملہ قرار دیا۔

اگرچہ بائیڈن نے اسرائیل کے لیے ایک مضبوط فوجی حمایت برقرار رکھی ہے لیکن وہ امریکہ میں پرتشدد احتجاج کے درمیان ڈیموکریٹس اور ترقی پسندوں کے زبردست سیاسی دباؤ کا شکار ہیں۔ یہ دونوں صدر کو غزہ کی پٹی میں اسرائیل کو امداد کی فراہمی یقینی بنانے اور جانی نقصان کم کرنے پر زور دے رہے ہیں۔

ریپبلیکنز نے اس تنقید کا فائدہ اٹھایا کہ بائیڈن انتظامیہ 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے تناظر میں اسرائیل کے دفاع کے حق کی حمایت کرنے میں ناکام رہی ہے۔ حماس کے حملے میں ایک اندازے کے مطابق 1،200 افراد اپنے گھروں ، گلیوں اور میوزک فیسٹیول میں ہلاک ہوگئے تھے۔ 250 سے زیادہ کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔ ان میں 133 کے قریب اسرائیلی یرغمال حماس کیقید میں ہیں۔

ریپبلکن پارٹی کے سینیٹ کے ممبران بائیڈن کی فلسطینیوں کو پناہ گزینوں کی حیثیت سے قبول کرنےکے بجائے امریکی یرغمالیوں کی رہائی کو محفوظ بنانے پر زور دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "ہم آپ سے کہتے ہیں کہ ہمارے خدشات کا مناسب جواب دینے کے لیے غزہ سے مہاجرین کی قبولیت کی منصوبہ بندی کرنا چھوڑ دیں اور حماس کے ذریعہ رکھی گئی امریکی یرغمالیوں کی رہائی پر اپنی توجہ مرکوز کریں"۔

ریپبلکن پارٹی کے سینیٹ کے ممبران نے غزہ سے فلسطینیوں کی قبولیت کو قومی سلامتی کے لئے خطرہ قرار دیا۔ان کا کہنا ہے کہ شک پیدا ہوتا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ حماس کے ممبروں یا دہشت گرد گروہوں کو امریکہ میں داخل ہونے کی اجازت دے سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "بدقسمتی سے دہشت گردوں کے ہمارے وطن میں داخل ہونے کا خطرہ کوئی مجازی مسئلہ نہیں ہے۔ سرحدی عہدیداروں نے 2023 میں فیڈرل انویسٹی گیشن آفس کی دہشت گردی کی نگرانی کی فہرست میں 169 افراد کو گرفتار کیا۔

بائیڈن انتظامیہ نے اعتراف کیا ہے کہ حماس نے نومبر میں اسرائیل اور حماس کے مابین ایک ہفتے کے دوران اس کے لیے خصوصی فوائد حاصل کرنے کے لئے عام شہریوں کے انخلاء سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تھی۔ بائیڈن انتظامیہ نے کہا کہ اس نے حماس کے جنگجوؤں کو روکنے کے لیے کام کیا ہے جو عام شہریوں کے بھیس میں غزہ سے علاج کے لیے باہر جانے کی کوشش کررہے تھے۔

یہ پیغام ٹرمپ انتظامیہ کے سابق عہدیداروں اور دیگر قانون سازوں کی تنقید کے بعد سامنے آیا ہے جو فلسطینیوں کو امریکہ میں داخلے کے مجوزہ منصوبے کو مسترد کرتے ہیں اور مہاجرین کو ایک بڑے انتخابی مسئلے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں