امریکی یونیورسٹیوں میں یہود دشمنی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے: بائیڈن

کالج کے احتجاج نے اظہار رائے کے حق اور قانون کی حکمرانی کو داؤ پر لگا دیا ہے: امریکی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر جو بائیڈن نے غزہ میں اسرائیلی فوج کی غزہ میں بربریت کے خلاف امریکی یونیورسٹیوں میں دھرنوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یونیورسٹی کے کسی کیمپس میں نفرت انگیز تقاریر اور یہود دشمنی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ بائیڈن نے مزید کہا کہ کالج کے احتجاج نے اظہار رائے کے حق اور قانون کی حکمرانی کو داؤ پر لگا دیا ہے اور ان دونوں کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ احتجاج نے مجھے خطے میں اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور نہیں کیا۔ قبل ازیں وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ بائیڈن غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف امریکی یونیورسٹیوں میں ہونے والے احتجاج کے حوالے سے آج بیان دیں گے۔ وائٹ ہاؤس نے وضاحت کی کہ اسرائیل شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے بغیر رفح پر حملے کے حوالے سے بائیڈن کے نقطہ نظر اور ہماری پالیسی میں تبدیلی کے امکان کو سمجھتا ہے۔

امریکی یونیورسٹیوں میں بڑھتے ہوئے مظاہروں صدر جو بائیڈن کو یہود دشمنی کی مذمت میں محتاط رہنے پر مجبور کیا اور امریکی نوجوانوں کے احتجاج کے حق کی حمایت کرتے ہوئے وہ طویل مدتی سیاسی نقصان کو محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

واضح رہے امریکی یونیورسٹیوں میں وسیع پیمانے پر ہونے والے مظاہروں کو قانون نافذ کرنے والی فورسز اور جوابی مظاہروں کے ذریعے پرتشدد جبر کا سامنا ہے۔ اسرائیل کے حوالے سے بائیڈن حکومت پر دائیں اور بائیں بازو کی قوتوں کی جانب سے تنقید کے تیر برسائے جا رہے ہیں۔ جمعرات کو پولیس نے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس کے کیمپس میں مظاہرین کی جانب سے قائم کیے گئے کیمپ کو زبردستی اکھاڑ پھینکا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں