برطانیہ کی طرف سے مغربی کنارے میں تشدد کی بنا پر اسرائیلی گروپوں، افراد پر پابندیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانیہ نے جمعہ کے روز اسرائیل میں دو "انتہا پسند" گروپوں اور چار افراد پر پابندیاں عائد کر دی ہیں جنھیں اس نے مغربی کنارے میں تشدد کا ذمہ دار قرار دیا۔ یہ اسرائیلی آباد کاروں کے خلاف اقدامات کے حوالے سے تازہ ترین کارروائی ہے۔

برطانیہ کے دفترِ خارجہ نے ہل ٹاپ یوتھ اور لیہاوا کو دو گروپوں کے طور پر نامزد کیا ہے جن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ مغربی کنارے میں فلسطینی برادریوں کے خلاف تشدد کی حمایت کرنے، اس پر اکسانے اور اسے فروغ دینے کے لیے مشہور تھے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ جن چار افراد پر پابندی عائد کی گئی ہے، وہ ان برادریوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ذمہ دار تھے۔

ان میں نوم فیڈرمین ہیں جنہوں نے آباد کار گروپوں کو تشدد کی تربیت دی ہے اور الیشا یرید ہیں جنہوں نے مذہبی بنیادوں پر فلسطینیوں کے قتل کا جواز پیش کیا ہے۔

غزہ پر اسرائیل کے حملے سے پہلے ہی مغربی کنارے میں تشدد بڑھ رہا تھا۔

اس کے بعد سے اسرائیلی فوجی چھاپوں، آباد کاروں کے تشدد اور فلسطینی سڑکوں پر حملوں کے ساتھ اس میں اضافہ ہوا ہے۔

برطانوی وزیرِ خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ انتہا پسند آبادکار سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچا رہے تھے اور امن کے امکانات کے لیے خطرہ بن رہے تھے۔

انہوں نے کہا، "اسرائیلی حکام کو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔ ضرورت پڑنے پر برطانیہ مزید پابندیوں سمیت مزید کارروائی کرنے سے دریغ نہیں کرے گا۔"

جن پر پابندی عائد کی گئی ہے، ان پر مالی اور سفری پابندیاں ہوں گی۔ قبل ازیں برطانیہ نے فروری میں چار اسرائیلی شہریوں پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں