سعودی عرب: ’سِنک‘ گلوبل سمٹ میں ڈیجیٹل توازن کو درپیش چیلنجز پر بحث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ہماری روزمرہ کی زندگیوں پر ٹیکنالوجی کے بڑھتے اثر و رسوخ کے ساتھ ہم اپنے آپ کو ڈیجیٹل دنیا اور اپنے آسان ترین روزمرہ کے کاموں کے درمیان خلفشار سے متعلق ایک چیلنج کا سامنا کر رہے ہیں۔

اس چیلنج کی روشنی میں سعودی عرب کے گلوبل سینٹرفار ورلڈ کلچر (اثرا) کے زیر اہتمام ’سِنک سمٹ‘ منعقد ہو رہی ہے جس میں تقریباً 70 ماہرین خطاب کریں گے۔ مشرقی سعودی عرب کے شہر ظہران میں منعقد کی جانے والی اس کانفرنس میں ڈیجیٹیل آلات کے روزہ زندگی پر مرتب ہونے والے اثرات اور درپیش چیلنجز کے ساتھ ان سے نبردآزما ہونے کے طریقوں پر بات کی جائے گی۔

یہ سربراہ اجلاس ہمیں ٹیکنالوجی کے مستقبل سے آگے ایک متاثر کن سفر پر لے جائے گا جہاں ہم ٹیکنالوجی اور افراد کے درمیان متضاد تعلقات کا جائزہ لیں گے۔ اس کے ساتھ زندگی کے ان گنت شعبوں میں فوائد کے لیے اس تعلق کو بروئے کار لانے کے لیے کام کریں گے۔اس کانفرنس میں ایسے حل پیش کیے جائیں گے جن کے ذریعے ڈیجیٹل توازن کے حوالے سے ہمارے سامنے ایک نیا ماڈل ہوگا تاکہ ہمیں یہ اندازہ ہوسکے کہ ڈیجیٹل بالا دستی کو ہماری زندگیوں پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے۔

ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز

ڈیجیٹل بیلنس پروگرام (Sync) کے سربراہ وضحی النفجان نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے’سینک‘ سربراہی اجلاس کی اہمیت اوران معیاری اقدامات کے آغاز کے لیے اثرا کی خواہش کے رازکے بارے میں کہا کہ اس سال کا سربراہی اجلاس کے لیے’ ڈیجیٹل تضادات کا مقابلہ" کا عنوان دیا گیا ہے۔

وضحى النفجان
وضحى النفجان

انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت ہے کہ ذریعے ہم ڈیجیٹل ٹیکنالوجیزکے مستقبل سے آگے کے سفرکی طرف بڑھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سربراہی اجلاس کا مقصد ایسے حل اور تجاویز تک پہنچنا ہے جو ڈیجیٹل استعمال کی کثرت اور تنوع کے مطابق ہوں۔

اعدادوشمار کو نمایاں کرنا

اس نے مزید کہا کہ ایک سروے کے ذریعے جس میں 30 سے زائد ممالک کے 35,000 افراد شامل تھے۔ سروے میں پتا چلا کہ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کو نشے کا سبب بننے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا اور آدھے سے زیادہ آن لائن نقصان دہ مواد کے سامنے آئے تھے جس کا تناسب 53 فی صد جب کہ 23 فی صد کو آن لائن بدمعاشی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کی وجہ سے 51فی صد میں بے چینی کی سطح میں اضافہ ہوا تھا۔

35 فی صد لوگوں کا خیال ہے کہ پچھلے سال میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال میں بہتری آئی ہے۔ صرف 5فی صد کا خیال ہے کہ یہ نئی پالیسیوں کی نشاندہی کرنے سے بھی ممکن ہو گا جو طرز زندگی کو زیادہ پائیدار بنانے، تمام سوشل میڈیا کے ساتھ ایک صحت مند تعلقات استوار کرنے اور مختلف ثقافتوں کے تحقیقی علم کے تبادلے سے ممکن ہو گی۔

’سِنک‘ سربراہی اجلاس کے لیے مستقبل کے اقدامات

وضحیٰ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’سینک‘ ٹیم مزید تحقیق جاری رکھے ہوئے ہے جو انسانی کوششوں اور ٹیکنالوجی کے درمیان موجود پیچیدہ تعامل کے تصور کو ختم کرنے میں معاونت کرتی ہے۔اس کا مقصد انسانوں کی طرف داری کرنا ہے، جس سے ڈیجیٹیل ٹولز کی صلاحیتوں کی حد کا تعین کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ڈیجیٹیل تبدیلی کے حوالے سے ہمارا سوچنے کا طریقہ مقصد تک پہنچنے میں پہلا معاون ثابت ہوگا۔ ساتھ ہی یہ سمٹ شرکاء کو نئی پالیسیوں کے بارے میں جاننے کے قابل بنائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں