غزہ کے لیے امدادی بندرگاہ پر حماس کے حملے کا امکان نہیں:آسٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے جمعے کے روز کہا ہے کہ انہیں اس بات کا کوئی اشارہ نظر نہیں ملا ہے کہ حماس غزہ میں امریکی افواج پر کسی حملے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

آسٹن نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ "میں پلیٹ فارم پر انٹیلی جنس پر بات نہیں کرتا، لیکن مجھے فی الحال ایسے کوئی اشارے نظرنہیں آتے کہ حماس کا ایسا کرنے کا کوئی حقیقی ارادہ ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "یہ ایک جنگی علاقہ ہے اور بہت سی چیزیں ہو سکتی ہیں اور ہو سکتی ہیں‘‘۔

وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی نے کل جمعرات کو کہا تھا کہ امریکی فوج کی طرف سے غزہ میں انسانی امداد کی روانی کو تیز کرنے کے لیے جو گھاٹ بنایا جا رہا ہے وہ دنوں میں کھل جائے گا۔ خراب موسمی حالات کے باوجود تیاریوں میں رکاوٹ ہیں۔ جان کربی نے ایک پریس کانفرنس میں وضاحت کی کہ "ہم سب کو امید ہے (کہ یہ کچھ دنوں میں ہو جائے گا"۔

امریکہ نے اسرائیل اور حماس دونوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ غزہ میں شہریوں کو دی جانے والی امداد میں خلل نہ پڑے، جب اسرائیلی آباد کاروں نے فلسطینی عسکریت پسندوں کی جانب سے اپنا راستہ موڑنے سے قبل اردن سے آنے والی کھیپ پر حملہ کیا۔

اسرائیل کے سرکاری اعداد و شمار پرمبنی مردم شماری کے مطابق سات اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے نتیجے میں 1,170 افراد مارے گئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

اس حملے کے دوران جنوبی اسرائیل سے 250 سے زائد افراد کو اغوا کیا گیا تھا جن میں سے 129 اب بھی غزہ میں قید ہیں۔ ان میں سے 35 ایسے ہیں جن کے بارے میں اسرائیل کا کہنا ہے کہ اب زندہ نہیں ہیں اور جن کی لاشیں غزہ میں رکھی جا رہی ہیں۔

حماس کے حملے کے جواب میں اسرائیل نے حماس ک ختم کرنے کا عزم کیا۔ اس کے بعد سے غزہ کی پٹی کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن شروع کر دیا ہے جس کے نتیجے میں غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اب تک 34,596 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں