پیرس پولیس غزہ جنگ کا خاتمہ چاہنے والے طلبہ کا دھرنا ختم کرنے میں کامیاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فرانس کی پولیس نے جنگ مخالف طلبہ کے خلاف جمعہ کے روز کامیابی حاصل کر لی ہے۔ اس سلسلے میں پیرس کی یونیورسٹی میں پولیس نے داخل ہو کر جنگ مخالف دھرنا دینے والے طلبہ کو اٹھا کر باہر دھکیل دیا اور پیرس کی ' سائنسز پو یونیورسٹی' کو طلبہ سے خالی کرا لیا۔

پیرس پولیس یونیورسٹی کے داخلی ہال میں پہنچ گئی اور اس نے تقریبا سات ماہ سے غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کرنے والے بیسیوں طلبہ کو دھرنے سے زبردستی اٹھا دیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے ' اے ایف پی ' سے وابستہ صحافیوں کے مطابق یونیورسٹی طلبہ کے اس احتجاج نے اسرائیل اور فلسطین تنازعہ کے موضوع پر بحث مباحثے کو زیادہ گرمجوشی دی اور اسرائیل کی غزہ جنگ پر ہر کوئی بات کرنے لگا۔

یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے نامہ نگاروں کو بتایا ' جب پولیس یونیورسٹی میں داخل ہوئی تو تقریباً 50 طلباء سینٹ گیلوم سائٹ کے اندر موجود تھے۔' بائیس سالہ باسٹین نے خبر رساں ادارے کو بتایا 'اسے اور دیگر مظاہرین کو پولیس افسران کے حکم پر 10 کے گروپوں میں طلبہ پرامن طور پر باہر چلے گئے۔ '

لوکاس نامی طالب علم جو ماسٹر کی ڈگری حاصل کر رہے ہیں نے پولیس آپریشن کے بارے میں کہا ' کچھ طالب علموں کو پولیس نے گھسیٹ گھسیٹ کر باہر نکالا اور بہت سوں کو پولیس سر کے بالوں یا کندھوں سے پکڑ کر کھینچ لے گئی۔

دھرنے کے جواب میں یونیورسٹی انتظامیہ نے نے جمعہ کے روز 'سائنسز پو' کی مرکزی عمارتوں کو بند کر دیا اور ریموٹ کلاسز کے لیے کہا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ' تقریباً 70 سے 80 افراد ' یونیورسٹی کی مرکزی عمارت کے داخلی ہال کی طرف موجود تھے۔

وزیر اعظم گیبریل اٹل کے دفتر نے اس سلسلے میں کہا' اس طرح کے مظاہروں کو پوری شدت کے ساتھ نمٹا جائے گا۔' وزیر اعظم کے مطابق جمعرات کو یونیورسٹی کی 23 جگہوں کو ( جنگ مخالف طلبہ سے) خالی کرا لیا گیا ۔ یونیورسٹی کی فلسطین کمیٹی کے طلباء نے پہلے نامہ نگاروں کو بتایا تھا کہ انہیں پولیس کی طرف سے غیر متناسب ردعمل کا سامنا کرنا پڑا، جنہوں نے اندر جانے سے پہلے سائٹ تک رسائی کو روک دیا تھا۔

انہوں نے اسرائیل کی غزہ میں سات ماہ سے جاری جنگ کے فلسطینی متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے بھوک ہڑتال شروع کرنے والے سات طلباء کے لیے طبی امداد کی کمی کی بھی شکایت کی اور انتظامیہ کے رویے کو مایوس کن قرار دیا۔
سائنسز پو، جسے فرانس کا سب سے بڑا پولیٹیکل سائنس سکول کہا جاتا ہے۔ اسی یونیورسٹی سے صدر ایمانوئل میکرون سمیت سابق اہم طلباء تعلیم پا چکے ہیں۔

غزہ میں اسرائیلی جنگ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انسانی بحران کے خلاف احتجاج میں ملک بھر کے کئی اہم مقامات پر طلباء کی کارروائی دیکھی ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے برعکس، دیگر ممتاز یونیورسٹیوں میں مظاہرے پھیلنے میں سست روی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

جہاں تقریباً 40 تنصیبات پر ہونے والے مظاہرے بعض اوقات پولیس کے ساتھ جھڑپوں اور بڑے پیمانے پر گرفتاریوں میں بدل چکے ہیں۔ لیکن فرانس میں اب تک مظاہرے کافی پرامن رہے ہیں۔

فرانس اسرائیل اور امریکہ کے بعد یہودیوں کی سب سے بڑی آبادی ہے۔ علاوہ ازیں یورپ کے دوسرے تمام ملکوں سے زیادہ مسلم ابادی بھی اسی فرانس میں ہے۔

ادھر یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس نے اعلان کیا کہ جمعے کی کلاسیں فاصلاتی طریقے سے منعقد کی جائیں گی۔ کیونکہ پولیس نے وہاں ایک احتجاجی کیمپ کو خالی کرا لیا ہے اور 200 سے زیادہ افراد کو گرفتار کر لیا۔

سائنسز پو انتظامیہ نے 5000 سے 6000 کے درمیان پیرس کے طلبہ کے لیے بھی یہی قدم اٹھایا۔ جمعرات کی صبح منتظمین کے ساتھ مشرق وسطیٰ پر بحث کے بعد مظاہرین پرامن دھرنے کے لیے داخلی ہال میں بیٹھ گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں