اسرائیل پر زیادہ سخت مؤقف اپنائیں: ہاؤس ڈیموکریٹس کا صدر بائیڈن پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جمعے کے روز امریکی ایوان میں متعدد ڈیموکریٹک ارکان نے صدر جو بائیڈن پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے پر غور کریں اگر وہ حماس کے خلاف اپنی جنگ کے طرز عمل کو تبدیل نہ کرے۔

کانگریس کے 86 ڈیموکریٹک ممبران نے ایک خط پر دستخط کیے اور اسے وائٹ ہاؤس پہنچا دیا جس سے بائیڈن پر دباؤ بڑھا ہے کہ وہ امریکہ کے مضبوط اتحادی اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف اختیار کریں۔

قانون سازوں نے "غزہ جنگ میں اسرائیلی حکومت کے روئیے کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا کیونکہ یہ انسانی امداد کو دانستہ روکنے سے متعلق ہے۔"

امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے خط میں کہا گیا، غزہ میں امریکی حمایت یافتہ انسانی امداد کی ترسیل پر اسرائیل کی پابندیاں ایک "بے مثال انسانی تباہی کا باعث بنی ہیں۔"

قانون سازوں نے بائیڈن پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو پر واضح کر دیں کہ غزہ تک امداد کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ آئی تو "امریکہ کی طرف سے مزید جارحانہ سکیورٹی امداد کے حصول کے لیے اس کی اہلیت کو خطرہ ہو گا۔"

خط میں کہا گیا ہے کہ امریکی فنڈنگ روکنے میں آئرن ڈوم جیسا میزائل دفاعی نظام شامل نہیں ہونا چاہیے۔

خط میں کہا گیا، "اسرائیل کو اس طرح کی جان بچانے والی دفاعی اعانت فراہم کرنے کے لیے ہماری بھرپور حمایت جاری ہے۔"

خط پر دستخط کرنے والوں میں ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی اور خارجہ امور کمیٹی کے ڈیموکریٹس شامل تھے۔

غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد سے بائیڈن کو اسرائیل کی غیر مشروط حمایت پر تنقید کا سامنا ہے۔

لیکن ان پر دباؤ بڑھ گیا ہے کیونکہ طلباء کے زبردست مظاہروں نے امریکی یونیورسٹی کے کیمپس کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور بائیڈن کے دوبارہ انتخاب کے خواہاں ہونے سے مہینوں پہلے ہی سرخیاں بنی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں