امریکہ کا مصنوعی ذہانت سے کنٹرولڈ ایف 16 طیاروں کا تجربہ، جنگ پر کیا اثرات ہوں گے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

چمکتے سورج کے ساتھ دن کے وسط میں امریکہ نے نارنجی اور سفید رنگ کے اس ایف 16 جیٹ طیارے کا تجربہ کیا جس میں مصنوعی ذہانت بروئے کار ہے اور ان جدید ترین طیاروں کو مصنوعی ذہانت سے ہی کنٹرول کرنے کا ہی اہتمام کیا گیا ہے۔ اس موقع پر ایک غوغہ ہے کہ یہ امریکہ کی فضائی طاقت کا خاصہ ہے۔

لیکن فضائی جنگ کے اس اہم ایف 16 طیارے کو اگرچہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے بغیر پائلٹ کے استعمال کیا جانا ہے لیکن جہاز کے پائلٹ کیبن میں فرنٹ سیٹ پر امریکی ایئر فورس کے سیکرٹری فرنک کینڈال براجمان تھے۔

مصنوعی ذہانت کا یہ استعمال فوجی ایوی ایشن میں اب تک کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ جس کا تعارف 1990 کی دہائی میں سٹیلتھ کے ذریعے کیا گیا تھا۔ بعدازاں امریکی ایئر فورس نے بہت تیزی سے اس سلسلے میں سیکھا اور پیش رفت کی ہے۔

حتیٰ کہ جب ابھی مصنوعی ذہانت کی ٹینالوجی نے اس قدر ترقی نہیں کی تھی تو اس وقت بھی یہ منصوبہ بندی کر لی گئی تھی کہ 2028 تک اس نئی جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ لڑنے والے 1000 بغیر پائلٹ کے ایف 16 طیارے تیار کیے جائیں گے۔

اس سلسلے میں ابتدائی طور پر ایف 16 طیاروں کی 'ڈاگ فائٹنگ' کا اہتمام ایڈورڈ ائیر فورس بیس اور اس سے جڑے وسیع صحرا میں کیا گیا۔ جہاں چک ییگر نے ہوا کی رفتار کی رکاوٹ کو توڑ دیا۔ تاہم اس معاملے کو ابتدائی طور پر بہت خفیہ رکھا گیا۔

اس دوران خفیہ طور پر نئے اور جدید ترین ایف 16 طیاروں کو مصنوعی ذہانت کے ساتھ ساتھ ٹیسٹ کیا جاتا رہا اور اس کو ڈیل کرنے والی افرادی قوت کی تربیت کی جاتی رہی۔

ایئر فورس کے سیکرٹری فرنک کینڈال نے ریئل ٹائم میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ایف 16 کی پرواز دیکھنے کے لیے سفر کیا اور اس بارے میں مستقبل کی جنگ میں ان طیاروں کے رول پر ایک بیان بھی دیا۔

کینڈال نے کہا 'اگر ہم اس موقع پر آج کی دنیا میں یہ کامیابی نہ حاصل کرتے تو یہ ہماری سلامتی کے لیے خطرہ تھا۔ تو ہمیں یہ اس لیے حاصل کرنا ہی تھی۔' کینڈال نے یہ بات امریکی خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی ہے۔

اس انٹرویو میں 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے ساتھ 'این بی سی' بھی شریک رہا کہ اسے بھی اجازت دے دی گئی تھی۔ تاہم اس پر یہ شرط عائد کی گئی تھی کہ وہ اس وقت تک اس منصوبے کی پیش رفت کی خبریں سامنے نہیں لائے گا جب تک یہ مکمل نہیں ہو جاتا۔ تاکہ اس ضمن میں عملی خطرات سے بچا جا سکے۔

مصنوعی ذہانت سے بروئے کار آنے والے ان ایف 16 طیاروں کو 'ویسٹا' کا نام دیا گیا ہے۔ جب فرانک کینڈال نے اس میں آزمائشی پرواز کے دوران سواری کی تو طیارے کی رفتار 550 میل فی گھنٹہ تھی اور کیندال کے جسم کو دوران پرواز کشش ثقل کے مقابلے میں پانچ گنا دباو کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ دوسرے ایف 16 کے پائلٹ کے تقریبا عین ناک کے سامنے آگیا تھا۔ کیونکہ دونوں ایف 16 طیارے ایک ہزار فٹ کے فاصلے سے دور رہ کر پرواز کر رہے تھے۔

پرواز مکمل ہونے کے بعد کنڈال کاک پٹ سے باہر آئے تو انہوں نے کہا 'میں نے اس پرواز کے دوران بہت کچھ سیکھا ہے۔ جس کی بنیاد پر ہم فیصلہ کریں گے کہ ہم نے اپنے اس ایف 16 طیارے کو جنگی میدان میں اتارنا ہے یا نہیں۔

اس تصور کی مخالفت

اسلحہ کو کنٹرول کرنے والے ماہرین اور انسانی گروپ مصنوعی ذہانت کے جنگی استعمال کے حوالے سے بہت فکر مند ہیں کہ اس کے ذریعے بموں کا گرایا جانا ایسا ہی ہوگا کہ جس میں کسی ممکنہ مشاورت کا کوئی دخل نہیں ہوگا اور انسانی ہجوم در ہجوم مصنوعی ذہانت کے ذریعے گرائے جانے والے بموں سے مرتے رہیں گے۔ حتیٰ کہ آبادیوں کی آبادیاں ملیا میٹ ہوجائیں گی۔

ان کے سامنے یہ سوال بھی اہم ہے کہ جو امریکہ ایٹمی ٹیکنالوجی ہاتھ آنے پر ایٹمی بموں کے گرانے سے گریز نہیں کرتا تھا وہ مصنوعی ذہانت کے اس بےدریغ استعمال سے کیسے رکے گا۔

صلیب احمر کی کمیٹی کو بھی اس بارے میں کافی خدشات ہیں کہ انسانوں کی زندگی اور موت کے فیصلوں کو خالصتا ٹیکنالوجی اور مشینیوں یا ہتھیاروں کے سپرد کر دینا غیر انسانی ہو گا۔' خود مختار ہتھیاروں کا معاملہ ابھی تشویش اور مطالبات کی زد میں ہے کیونکہ اس بارے میں عالمی سطح سے سیاسی رد عمل کافی زیادہ ہے۔ کینڈال نے اس بارے میں کہا ' انسانی نگرانی کا نظام ہمیشہ ان ہتھیاروں کے ساتھ رہے گا۔

بلا شبہ یہ معاملہ بھی اہم ہے کہ جنگی ہتھیاروں اور طیاروں کو جدید ترین اہلیت سے لیس کرنے میں لاگت اور اہلیت کی سطح کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اگر امریکہ اور چین کے درمیان جاری تنازعات ختم ہوجاتے ہیں تو آج کا امریکی فضائی بیڑہ بھی مہنگا لگنے لگے گا۔ کہ اس کی لاگت اور بعد کے اخراجات کو اس کے استعمال اور فائدے کے تناظر میں ہی دیکھا جائے گا۔

کیونکہ چین اور امریکہ کے درمیان معاملات میں چین کی فضائیہ امریکہ کوپیچھے چھوڑنے کی رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے۔ حتیٰ کہ چین بغیر پائلٹ کے ہتھیاروں اور طیاروں کی طرف بھی بڑھ رہا ہے۔

امریکہ بغیر پائلٹ کے طیاروں کےایک ہجوم کے تصور کو آگے بڑھتا دیکھ رہا ہے۔ امریکہ کی بھی کوشش ہے کہ اپنے پائلٹوں کی جانوں کو زیادہ خطرے کے بغیر فضائی حدود میں گھسنے کی صلاحیت فراہم کر سکے۔

چیف ٹیسٹ پائلٹ بل گرے نے کہا 'جب تک آپ واقعتاً پرواز نہیں کرتے، یہ سب قیاس آرائی ہے۔ آپ کو اس کا تجربہ کرنے میں جتنا زیادہ وقت لگتا ہے، اتنا ہی مزید وقت مفید سسٹم کے لیے درکار ہوتا ہے۔'

وسٹا نے ستمبر 2023 میں مصنوعی ذہانت کے زیر کنٹرولڈ اپنی پہلی ڈاگ فائٹ اڑائی اور اس کے بعد سے اب تک تقریباً دو درجن سے زائد پروازوں نے اڑان بھری ہے۔

پائلٹ اس بات سے واقف ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے وہ کچھ معاملات میں اپنے متبادل کو تربیت دے رہے ہیں اور مستقبل کی تعمیر کو تشکیل دے رہے ہیں۔ ایک ایسا مستقبل جہاں ان کی کم سے کم ضرورت ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر امریکہ کے پاس اپنا فضائی بیڑا نہیں ہے تو اپنے اس مخالف کے خلاف نہیں جائیں گے جو مصنوعی ذہانت رکھنے والے طیارے رکھتا ہو۔

کینڈال نے مزید کہا 'ہمیں دوڑتے رہنا ہے اور بلاشبہ تیزی سے دوڑنا ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں