بھارت: اپوزیشن جماعت کانگریس کے سوشل میڈیا سربراہ ارون ریڈی گرفتار کر لیے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے سوشل میڈیا کے سربراہ ارون ریڈی کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ یہ بات پولیس نے ہفتے کے روز بتائی ہے۔

اپوزیشن رہنما پر الزام ہے کہ اس نے ملک میں لوک سبھا کے جاری انتخابات کے دوران سوشل میڈیا پر گمراہ کن ویڈیو وائرل کی ہے۔

پولیس نے بتایا ہے کہ ارون ریڈی کو جمعہ کے روز حراست میں لیا گیا تھا اور اس کی وجہ ان کی ایڈٹ کردہ ویڈیو بنی ہے۔ اس ایڈٹ کی گئی ویڈیو میں بھارتی وزیر داخلہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما امیت شاہ کو دکھایا گیا ہے۔

ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ بھارت کی انتہائی دائیں بازو کی ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی سے تعلق رکھنے والے وزیر داخلہ بھارت میں مذہبی اور سماجی اعتبار سے نچلی ذات سے سمجھے جانے والے دلتوں کے لیے حکومت کی مثبت پالیسیوں کے خاتمے کی بات کررہے ہیں ۔

واضح رہے بھارتی دلتوں کی آبادی ہندوتوا کے ماننے والے اونچی ذات کے ہندووں سے کم نہیں ہے بلکہ بہت زیادہ ہے۔ لیکن ان کی سماجی اور مذہبی ہی نہیں معاشی حیثیت بھی انتہائی کمزور مانی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ اونچی ذات کے ہندو انہیں اپنے مقابلے میں ملیچھ اور شودر قرار دیتے ہیں۔ ہندو عقیدے کے مطابق انہیں چھونے سے برہمن ذات کے ہندو بھرشٹ یعنی ان کے ہاتھ اور جسم ناپاک ہو جاتے ہیں۔

امیت شاہ کو عام طور پر اقلیتوں کے بارے میں ان کے سخت انداز سے یاد کیا جاتا ہے وہ بی جے پی کے ان رہنماؤں میں سے ایک ہیں جو ہندوتوا کے حوالے سے واضح اور پختہ سوچ رکھتے ہیں کہ ہندوستان پر ہندوتوا کا ہی غلبہ ہونا چاہیے ، اس لیے بی جے پی میں وہ مودی کے متبادل یا دوسرے اہم رہنما کے طور پر بھی دیکھے جاتے ہیں۔

عین انتخابی مراحل کے دوران جب ہر جماعت کی قیادت اپنے ووٹروں کو اپنے حق میں ووٹ ڈالنے کے لیے مائل کرنے میں مصروف ہے ووٹوں کی تعداد کے اعتبار سے سب سے بڑے انتخابی عمل کے حامل ملک بھارت میں سب سے اہم اپوزیشن جماعت کے سوشل میڈیا کے سربراہ کو گرفتار کیا جانا جمہوری حلقوں کے لیے حیران کن ہے۔

تاہم بھارت میں انتخابی مہم کے شروع سے ایسے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں جن کے بارے میں عمومی جمہوری سوچ اور تصور میں گنجائش نہیں سمجھی جاتی ہے۔ البتہ بھارت میں مودی کے زیر قیادت ایک نئی سوچ پر مبنی مودی جمہوریت ابھر رہی ہے۔ جو اگلی کئی دہائیوں تک مودی کا نام زندہ رکھے گی۔

نئی دہلی کے ڈپٹی کمشنر پولیس ہمنت تیواری نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے ' اے ایف پی' کو بتایا ہے کہ کانگریسی رہنما ارون ریڈی کو جمعہ کے روز حراست لیا گیا تھا اور ان سے وائرل کی گئی اس ویڈیو کے بارے میں تفتیش کی جارہی ہے۔ پولیس انہین عدالت میں پیش کرے گی۔

دوسری جانب کانگریس کی ترجمان شمع محمد نے ریڈی کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے تاہم اس الزام کی تردید کی ہے ریڈی نے کسی ویڈیو کو ایڈٹ کر کے وائرل کیا ہے اور نہ ہی وہ ایسے کسی کام میں ملوث ہیں، کانگریس اپنے رہنما کے ساتھ کھڑی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں