دراندازی کا خوف، امریکی یونیورسٹی کا حماس وردی والے مظاہرین کی تحقیقات کرانیکا اعلان

سٹینفورڈ یونیورسٹی نے ایف بی آئی سے حماس کا بینڈ پہنے ہوئے ایک شخص کی تصویر کی تحقیقات کرنے کا کہ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سٹینفورڈ انتظامیہ نے کہا ہے کہ یونیورسٹی کے اہلکاروں نے ایف بی آئی کو کیمپس کیمپ میں ایک شخص کی تصویر بھیجی ہے۔ اس شخص کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس نے حماس کے ارکان کے پہننے والے ہیڈ بینڈ سے ملتا جلتا بینڈ پہنا ہوا ہے۔

یونیورسٹی نے ایک آن لائن پوسٹ میں کہا کہ ہمیں وائٹ پلازہ میں ایک ایسے شخص کی سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصویر کے حوالے سے تشویش کن پیغامات ملے ہیں۔ اس تصویر میں ایک شخص نے حماس کے ارکان کے زیر استعمال سر کی پٹی جیسی پٹی پہن رکھی ہے۔ تصویر میں نظر آنے والا شخص نقاب پوش ہے اور سر پر پٹی پہنے ہوئے ہے۔ حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ارکان اسی قسم کا ہیڈ بینڈ پہنتے ہیں۔

یونیورسٹی نے اپنی پوسٹ میں مظاہرین کی تصویر فراہم نہیں کی لیکن یونیورسٹی ایکشن نیٹ ورک پر پوسٹ کیے گئے پیغام میں سٹینفورڈ جیوز نامی ایک گروپ کی جانب سے آن لائن گردش کرنے والی تصویر کا حوالہ دے رہی تھی۔ ایکشن نیٹ ورک خود کو ایک ترقی پسند، غیر منافع بخش ٹیکنالوجی پلیٹ فارم کے طور پر بیان کرتا ہے۔

سٹینفورڈ یونیورسٹی نے کہا ہے کہ وہ کیمپس میں ان سرگرمیوں میں باہر کے غیر طالب علم افراد کے ملوث ہونے کے بارے میں فکر مند ہے۔ یونیورسٹی نے نے مذکورہ تصویر کے بارے میں کوئی خاص معلومات فراہم نہیں کیں۔ یونیورسٹی نے یہودیوں کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ جو لوگ کھلے عام دہشت گرد تنظیم کے ممبروں کا لباس پہنتے ہیں وہ ناقابل قبول ہیں اور ان کے ساتھ جلد اور سختی سے نمٹا جانا چاہیے۔

جمعہ کو امریکا کی مختلف یونیورسٹیوں میں بڑی تعداد میں طلبہ اور فلسطین کے حامی دیگر افراد نے مظاہرے کئے۔ اس دوران انتظامیہ نے کارروائیاں کرکے 2100 سے زیادہ افراد کو حراست میں لے لیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں