سعودی عرب کا ویژن 2030: مملکت کی معاشی ترقی کا زینہ کیسے بن رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی ویژن 2030 پوری مملکت کی یکساں ترقی و خوشحالی کے لیے ایک جامع منصوبے کے طور پر بروئے کار ہے۔ جس میں شہریوں کی انفرادی اور اجتماعی صلاحیتوں اور اہلیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے انہیں بھی اس ویژن کا حصہ بنایا گیا ہے تاکہ مملکت کی تعمیر و ترقی میں سبھی حصہ لیں اور سبھی کو حصہ ملے۔ نیز مملکت کا معاشی انحصار صرف تیل کے ذخائر پر نہ رہے۔

اس نئے روڈ میپ کے تحت مملکت معاشی اہداف کو آگے بڑھانے اور حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ معاشی شرح نمو میں اضافہ ہو رہا ہے اور شہریوں کے لیے ملازمتوں کے مواقع میں اضافہ کیا جارہا ہے۔ مزید یہ کہ غیر ملکی سرمایہ کاری میں بڑھوتری ہورہی ہے۔

ویژن 2030 میں نوجوانوں کو بطور خاص ترجیح دے کر منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اس میں کاروبار، ماحولیات، تعمیر نو کے علاوہ توانائی کے ساتھ ساتھ آئی ٹی اور سیاحت کے شعبوں کو بطور خاص فعال کیا گیا ہے۔

ویژن 2030 اور معاشی اہداف

اس سعودی ویژن کے مطابق اہداف میں درج ذیل نکات کے تحت مقاصد کا حصول ممکن بنانا شامل ہے۔

سعودی عرب میں تیل کے علاوہ سالانہ برآمدات کے حصے کو مجموعی جی ڈی پی میں 18.7 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد تک لے جانا ہے۔

لاجسٹکس کے شعبے میں سعودی عرب کی صلاحیت اور سطح کو بلند کرنا اور علمی سطح پر بہتر رینکنگ حاصل کرنا۔

نجی شعبے کے جی ڈی پی میں حصے کو 40 فیصد سے بڑھا کر 65 فیصد تک لانا ہے۔

غیرملکی سرمایہ کاری کے جی ڈی پی میں حصے کو 3.8 فیصد سے بڑھا کر 5.7 فیصد تک کرنا ہے۔

عالمی مسابقتی انڈیکس میں سعودی عرب کو 25ویں پوزیشن سے ٹاپ 10 میں لانا ہے۔

سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنڈ فنڈ کو 159 ارب ڈالر سے 1.86 ٹریلین ڈالر تک لانا ہے۔

عالمی معاشی درجہ بندی میں سعودی عرب کو 19ویں پوزیشن سے ٹاپ 15 میں لانا ہے۔

تیل اور گیس کے شعبے میں لوکلائزیشن کی جی ڈی پی کو 40 فیصد سے بڑھا کر 75 فیصد کرنا ہے۔

سعودی عرب کی افرادی قوت میں خواتین کی شرکت کو 22 فیصد سے بڑھا کر 30 فیصد تک لانا ہے۔

سعودی عرب کے جی ڈی پی میں چھوٹے کاروباری منصوبوں اور اداروں کی شرح کو 20 فیصد سے بڑھا کر 35 فیصد تک لانا ہے۔

سعودی عرب میں بیروزگاری کی شرح کو 12.3 فیصد سے کم کر کے 7 فیصد تک لانا ہے۔

سعودی عرب نے اپنے اس غیر معمولی طور پر معاشی ترقی کے لیے تیار کیے گئے ویژن کا آدھا سفر طے کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں ویژن 2030 میں غیرمعمولی پیش رفت نظر آنے لگ گئی ہے۔ بعض اہداف کو نہ صرف حاصل کر لیا گیا ہے بلکہ ان سے آگے تک رسائی حاصل کی گئی ہے۔

جیسا کہ 2016 میں بیروزگاری کی شرح 12.3 تھی جو 2023 کی پہلی سہہ ماہی تک 8.6 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ خواتین سعودی عرب کی افرادی قوت میں شامل ہو رہی ہیں۔ نیز مملکت عالمی معیشتوں میں بھی 20ویں نمبر سے 17ویں نمبر پر آگیا ہے۔

سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ میں 2016 میں اثاثوں کی مالیت 192 ارب ڈالر تھی جو 2023 میں 749 ارب ڈالر تک ہوگئی ہے۔ علاوہ ازیں سیاحت کے شعبے میں سعودی عرب نے سال 2023 میں 106 ملین سیاحوں کا خیرمقدم کیا ہے۔ جن میں 27.4 ملین بین الاقوامی سیاح شامل تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں