قدامت پسندوں کے غم وغصے کے درمیان متنازعہ بل فائٹنگ مقابلہ منسوخ کر دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ہسپانیہ نے جمعے کے روز ایک سالانہ بل فائٹنگ ایوارڈ اس وقت منسوخ کر دیا جب قدامت پسند سیاست دانوں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے کہ وہ صدیوں پرانی روایت کو ترک کرنے کے طور پر دیکھتے ہیں، جبکہ مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ ان جانوروں کے لیے "تشدد" ہے۔

ہسپانوی طرز کی بل فائٹنگ جس کا اختتام عام طور پر تلوار کے وار سے ایک میٹاڈور کے ذریعے جانور کے مارے جانے پر ہوتا ہے اس کے حامی اسے ثقافتی روایت سمجھتے ہیں، جب کہ مخالفین اسے ایک ظالمانہ روایت کے طور پر بیان کرتے ہیں جس کی جدید معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

وزارت ثقافت نے کہا کہ اس نے ہسپانیہ میں نئی سماجی اور ثقافتی حقیقت کی بنیاد پر میلے کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ جانوروں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں جبکہ زیادہ تر بیل فائٹنگ رِنگز میں حاضری کی شرح میں کمی آئی ہے۔

وزیر ثقافت آرنسٹ ارٹاسن نے"ایکس" پلیٹ فارم پر لکھا کہ "اسپینی باشندوں کی اکثریت میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ وہ ملک میں جانوروں کو اذیت دینے کے رواج کی وجوہات کو نہیں سمجھتے ہیں۔

قومی ایوارڈ 30,000 یورو ($32,217) کی مالیت کا ایک سرکاری چیک ہے اور یہ جولین لوپیز جیسے مشہور بل فائٹرز یا بیل فائٹنگ روایات سے وابستہ ثقافتی انجمنوں کو دیا جاتا ہے۔

ثقافتی تنازعات میں بل فائٹنگ حال ہی میں ایک اہم مسئلہ بن گیا ہے، کیونکہ بائیں بازو کی جماعتیں دائیں بازو کے قدامت پسندوں کے ساتھ اس معاملے پر لڑ رہی ہیں۔

حزب اختلاف کی پیپلز پارٹی کے ترجمان بورجا سیمپر نے صحافیوں کو بتایا کہ حکومت کے اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ "ثقافتی تنوع یا آزادی پر یقین نہیں رکھتی۔ اور یہ کہ اگر ان کی پارٹی دوبارہ اقتدار میں آتی ہے تو وہ ایوارڈ واپس کر دے گی"۔

آراگون کے علاقے میں پیپلز پارٹی کے رہ نما جارج ایزکون نے کہا کہ پارٹی ایک اور ایوارڈ پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس نے تبصرہ کیا کہ "روایات ایسی ہونی چاہئیں جو ہمیں تقسیم کرنے کے بجائے متحد کرتی ہیں"۔

بیل فائٹنگ کی مخالفت لاطینی امریکہ میں بھی بڑھی ہے جہاں یہ روایت سولہویں صدی میں منتقل ہوئی اور انیسویں صدی میں جنوبی فرانس میں پھیل گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں