کینیڈا میں سکھ علاحدگی پسند رہنما کے قتل کے الزام میں تین افراد گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

کینیڈا میں سکھ علاحدگی پسند رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے الزام میں تین انڈین شہریوں کو گرفتار کر کے ان پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے جبکہ کینیڈا کی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا ان افراد کے انڈیا کی حکومت سے روابط تھے یا نہیں۔

45 سالہ سکھ لیڈر ہردیب سنگھ نجر کو گزشتہ سال جون میں مسلح افراد نے اس وقت ہلاک کر دیا تھا جب وہ برٹش کولمبیا کے گردوارہ سے باہر اپنی کار میں تھے۔ کینیڈا نے اس قتل میں بھارتی خفیہ ایجنسی کے تعلق کا الزام لگایا تھا جس سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔

پولیس نے حراست میں لیے جانے والے افراد کی شناخت تین بھارتی شہریوں کمل پریت سنگھ، کرن برار اور کرم پریت سنگھ کے طور پر کی ہے۔ ان تینوں کی عمریں بیس اور تیس سال کے درمیان ہیں۔ پولیس نے انہیں جمعے کی صبح البرٹا صوبے کے شہر ایڈمنٹن میں گرفتار کیا۔

کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے گزشتہ سال ستمبر میں اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ سکھ رہنما نجر کے قتل میں بھارت کے ملوث ہونے کے قابل بھروسہ شواہد موجود ہیں۔ جس سے دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات میں تناؤ پیدا ہو گیا تھا۔

بھارت نے نجر پر دہشت گردی سے تعلق کا الزام لگایا تھا لیکن نے اس کے قتل میں اپنے کے ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے برہمی کا اظہار کیا تھا۔ ٹروڈو کے الزام کے بعد بھارت نے کینیڈا سے کہا تھا کہ وہ بھارت میں موجود اپنے 62 سفارت کاروں میں سے 41 کو واپس بلا لے۔

رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس کے سپرنٹنڈنٹ مندیپ موکر نے جمعہ کو ٹورنٹو میں ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ تینوں مشتبہ افراد کینیڈا میں غیر مستقل رہائشی کے طور پر رہ رہے تھے۔

اسسٹنٹ کمشنر ڈیوڈ ٹیبول نے کہا کہ کینیڈین حکام بھارت میں اپنے ہم منصبوں سے بات کر رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میں اس تعاون کو ایک چیلنج کے طور پر پیش کرتا ہوں۔ یہ بہت مشکل کام تھا۔

توقع ہے کہ زیر حراست تینوں افراد کو پیر تک برٹش کولمبیا لے جایا جائے گا جہاں وہ فرسٹ ڈگری قتل اور قتل کی سازش کے الزامات کا سامنا کریں گے۔

ہردیب سنگھ نجر بھارتی نژاد کینیڈین تھے اور وہ ایک پلمبر کے طور پر کام کرتے تھے۔ وہ ایک آزاد سکھ ریاست کی تحریک ’خالصتان کے پر زور حامی اور لیڈر تھے۔ انہوں نے دہشت گردی سے اپنے کسی بھی تعلق کی تردید کی تھی۔

1970 اور 1980 کے عشروں میں جاری رہنے والی خالصتان کی تحریک کے نتیجے میں سکھوں کی ایک خونی شورش نے جنم لیا جس نے شمالی بھارت کی ہلا کر رکھ دیا۔ بھارتی حکومت نے اس تحریک کو طاقت سے کچل دیا، جس میں اہم سکھ رہنماؤں سمیت ہزاروں افراد مارے گئے تھے۔

خالصتان کی تحریک اب اپنی زیادہ تر سیاسی قوت سے محروم ہو چکی ہے لیکن اس کے باوجو بھارتی ریاست پنجاب اور بیرون ملک مقیم سکھوں کی ایک بڑی تعداد اس کی حامی ہے۔

اگرچہ خالصتان کی فعال شورش برسوں پہلے ختم ہو گئی تھی لیکن بھارتی حکومت متعدد بار خبردار کر چکی ہے کہ سکھ علاحدگی پسند اس تحریک کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ہردیپ سنگھ نجر کون تھے؟

ہردیپ سنگھ نِجر کا تعلق انڈین ریاست پنجاب کے جالندھر ضلع کے گاؤں بھرا سنگھ پورہ سے تھا۔ انڈین حکومت کے مطابق نِجر علاحدگی پسند تنظیم خالصتان ٹائیگر فورس کے سربراہ تھے اور خالصتان ٹائیگر فورس کے ماڈیول ارکان کو آپریشن، نیٹ ورکنگ، تربیت اور مالی مدد فراہم کرنے میں سرگرم تھے۔

پنجاب حکومت کے مطابق نیشنل انوسٹیگشن ایجنسی (این آئی اے) نے جالندھر کے پھیلور سب ڈویژن میں ان کے آبائی گاؤں بھرا سنگھ پورہ میں واقع نجر کی کل 11 کنال 13.5 مرلہ اراضی ضبط کر لی تھی۔

پنجاب میں نجر کی جائیدادیں 2020 میں ان کی آن لائن مہم ’سکھ ریفرنڈم 2020‘ کی وجہ سے ضبط کی گئی تھیں۔

نجر سنہ 1997 میں کینیڈا چلے گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کینیڈا آنے کے بعد کبھی انڈیا واپس نہیں گئے لیکن کووڈ 19 لاک ڈاؤن سے پہلے ان کے والدین اپنے آبائی گاؤں ضرور آئے تھے۔ نجر شادی شدہ تھے اور انھوں نے سوگواروں میں اپنے والدین کے ساتھ اپنی اہلیہ اور دو بیٹے چھوڑے ہیں۔

انڈیا کی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے الزام عائد کیا تھا کہ نجر مبینہ طور پر سنہ 2013 سے 2014 کے درمیان خالصتان ٹائيگر فورس (کے ٹی ایف) کے سربراہ جگتار سنگھ تارا سے ملنے کے لیے پاکستان گئے تھے۔

تارا کو سنہ 2015 میں تھائی لینڈ سے گرفتار کر کے انڈیا لایا گیا تھا۔

ایجنسی کے مطابق نجر کا تعلق انڈیا میں کالعدم تنظیم ’سکھ فار جسٹس‘ سے بھی تھا۔ نجر کو حال ہی میں آسٹریلیا میں خالصتان ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ کے دوران دیکھا گیا تھا۔

ہردیپ سنگھ نجر کا قتل کیسے ہوا؟

وہ 18 جون 2023 کی ایک عام سی اتوار کی شام تھی۔ دنیا بھر میں اور سوشل میڈیا پر ’فاردز ڈے‘ منایا جا رہا تھا جبکہ کینیڈا کے برٹش کولمبیا کے سرے قصبے میں گرودوارہ نانک صاحب میں شام کی پراتھنا (عبادت) کے لیے معمول کے مطابق عقیدت مند جمع تھے کہ اچانک پارکنگ کے حصے سے فائرنگ کی آواز آنا شروع ہو گئی۔

کینیڈا کی پولیس کے مطابق دو نامعلوم نقاب پوش افراد نے ایک شخص کو نشانہ بنایا اور ان پر پے در پے کئی گولیاں داغ دیں۔ پولیس نے مرنے والے شخص کی شناخت گرودوارے کے صدر ہردیپ سنگھ نِجر کے طور پر کی۔

ان کے قتل کو کینیڈا میں بسنے والی سکھ برادری نے ’سیاسی قتل‘ قرار دیا اور ٹورنٹو اور وینکوور سمیت متعدد شہروں میں اس کے خلاف مظاہرے ہوئے۔

ہردیپ سنگھ نجر پر بھارت میں الزامات؟

انڈیا کی ایجنسی این آئی اے نے نجر پر 10 لاکھ روپے نقد انعام کا اعلان کر رکھا تھا۔

انڈین پنجاب پولیس کے مطابق نجر کا نام اس مطلوبہ فہرست میں بھی شامل تھا جو پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے سنہ 2018 میں انڈیا کے دورے پر آنے والے کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کو پیش کی تھی۔

دسمبر 2020 میں این آئی اے کے ذریعے درج ایف آئی آر میں بھی نجر کا نام شامل تھا جب پنجاب اور دیگر ریاستوں کے کسان دہلی میں زراعت سے متعلق تین وفاقی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ ملک بھر میں بڑے پیمانے پر مستقل احتجاج کے بعد یہ قوانین واپس لے لیے گئے۔

این آئی اے نے اس ایف آئی آر میں کئی سکھ کارکنوں کا نام لیا تھا جن میں ہردیپ سنگھ نجر، گروپتونت سنگھ پنوں اور پرمجیت سنگھ پما شامل تھے۔

ان افراد پر ’لوگوں میں خوف پیدا کرنے، لوگوں میں مایوسی پیدا کرنے اور انھیں انڈیا کے خلاف اکسانے اور بغاوت کی سازش‘ کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

وینکوور پوسٹ کے مطابق سنہ 2016 میں انڈین حکومت نے نجر پر انڈیا میں ایک ہندو پجاری کے قتل کی سازش کا الزام لگایا تھا۔ انڈین میڈیا رپورٹس نے سنہ 2007 میں پنجاب کے ایک سینما ہال میں ہونے والے بم دھماکے سے بھی انھیں منسلک کیا تھا جس میں چھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

وینکوور پوسٹ کے مطابق نجر نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ان پر لگائے گئے الزامات جھوٹے ہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’میں 1997 سے یہاں رہ رہا ہوں۔ میں انڈیا واپس نہیں گیا۔‘ نجر نے گذشتہ سال پوسٹ میڈیا کے رپورٹر کم بولان کو ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ’میں ایک پلمبر ہوں اور گوردوارے کے لیے سخت محنت کر رہا ہوں۔ میں ایک کمیونٹی سرونٹ ہوں، ٹھیک ہے؟‘

کینیڈین اخبار کے مطابق انھوں نے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کو خط لکھا تھا اور ان پر زور دیا تھا: ’میرے خلاف انڈین حکومت کے من گھڑت، بے بنیاد، فرضی اور سیاسی طور پر متاثر الزامات کو ختم کریں۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں