یونیورسٹیوں میں کریک ڈاؤن، بائیڈن کے بیان کے بعد فلسطین کی حمایت میں مظاہروں میں کمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پولیس کے ساتھ جھڑپوں، بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور وائٹ ہاؤس کی امن بحال کرنے کی سخت ہدایت کے بعد فلسطین کے حامی مظاہروں کا زور ٹوٹ گیا۔

مین ہٹن میں پولیس نے طلوع آفتاب کے بعد نیویارک یونیورسٹی کا ایک احتجاجی کیمپ ہٹا دیا جس کی سوشل میڈیا پر ایک اہلکار کی طرف سے پوسٹ کی گئی ویڈیو میں دکھایا گیا کہ حکم دینے پر مظاہرین اپنے خیموں سے باہر نکلے اور منتشر ہو گئے۔

یہ منظر ملک کے دیگر کیمپسز اور دنیا بھر کے بعض شہروں میں کریک ڈاؤن کے مقابلے میں نسبتاً پرسکون دکھائی دیا جہاں حالیہ ہفتوں میں غزہ میں حماس کے خلاف اسرائیل کی جنگ کے حوالے سے مظاہروں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔

یونیورسٹی کے منتظمین جنہوں نے احتجاج کے حق اور تشدد اور نفرت انگیز تقاریر کی شکایات میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سال کے اختتامی امتحانات اور گریجویشن کی تقریبات سے پہلے مظاہرین کو ہٹا دیں۔

شکاگو یونیورسٹی میں سکول کے صدر نے کہا کہ مظاہرین کے ساتھ سمجھوتے پر بات چیت ناکام ہو گئی تھی اور انہوں نے اشارہ دیا کہ یونیورسٹی وہاں کے احتجاجی کیمپ میں مداخلت کر سکتی تھی۔

مقامی میڈیا نے رپورٹ کی کہ یہ خبر اسی دن آئی جب امریکی پرچم لہراتے درجنوں جوابی مظاہرین نے سکول کے فلسطینی حامی گروپ کا سامنا کیا لیکن پولیس نے فریقین کو الگ کر دیا۔

امریکہ کے طول و عرض میں گذشتہ دو ہفتوں کے دوران 2,000 سے زیادہ گرفتاریاں کی گئیں جن میں سے کچھ پولیس کے ساتھ پرتشدد تصادم کے دوران ہوئیں جو ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کے الزامات کا سبب بنیں۔

صدر جو بائیڈن جنہیں غزہ تنازعے پر تمام سیاسی فریقین کے دباؤ کا سامنا ہے، نے جمعرات کو ہونے والے مظاہروں پر اپنا پہلا تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "امن غالب ہونا چاہیے۔"

بائیڈن نے وائٹ ہاؤس سے ایک مختصر خطاب میں کہا، "ہم ایک آمرانہ قوم نہیں ہیں جہاں ہم لوگوں کو خاموش یا اختلاف رائے کو ختم کر دیں۔"

نیز انہوں نے کہا، "لیکن نہ ہی ہم لاقانونیت والا ملک ہیں۔ ہم ایک مہذب معاشرہ ہیں اور امن غالب ہونا چاہیے۔"

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس میں مظاہرین کے خلاف پولیس کے حرکت میں آنے کے چند گھنٹے بعد ان کا یہ تبصرہ سامنے آیا۔ اس واقعے میں اس وقت پرتشدد تصادم پیش آیا جب مخالف مظاہرین نے وہاں ایک قلعہ بند کیمپ پر حملہ کیا۔

پولیس کے ایک بڑے دستے نے جمعرات کے اوائل میں وسیع کیمپ کو زبردستی خالی کروایا جبکہ باہر جمع ہونے والے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے فلیش بینگ (تیز روشنی کے ساتھ بلند شور پیدا کرنے والا آؒلہ) کا استعمال کیا گیا۔

سکول حکام نے بتایا کہ 200 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا۔

جمعہ کو امریکی مغربی ساحل پر کیلیفورنیا یونیورسٹی، ریور سائیڈ میں مظاہرین کا کیمپ منتظمین کے ساتھ سمجھوتے کے بعد آدھی رات تک ختم کر دیا گیا۔ یہ معاہدہ جمعرات کو نیو جرسی کی رٹگرز یونیورسٹی اور روڈ آئی لینڈ کی براؤن یونیورسٹی میں اس ہفتے کے شروع میں اسی طرح کے سمجھوتوں کے بعد ہوا۔

ریپبلکنز نے بائیڈن پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے مظاہرین میں یہود مخالف جذبات کے بارے میں نرم رویہ اختیار کیا جبکہ انہیں اسرائیل کے فوجی حملے کی بھرپور حمایت کرنے پر اپنی ہی پارٹی میں مخالفت کا سامنا ہے۔

بائیڈن نے کہا، "کسی کیمپس میں اور امرکہ میں یہود دشمنی یا یہودی طلباء کے خلاف تشدد کی دھمکیوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔"

سی این این نے رپورٹ کیا کہ سکریٹری تعلیم میگوئل کارڈونا نے جمعہ کو یونیورسٹی کے رہنماؤں کو ایک خط میں مذمت کی بازگشت کرتے ہوئے وعدہ کیا کہ یہود دشمنی کی اطلاعات کی "جارحانہ انداز میں" تفتیش کی جائے گی۔

دریں اثناء آسٹریلیا، فرانس، میکسیکو اور کینیڈا سمیت دنیا بھر کے ممالک میں اسی طرح کے طلباء مظاہرے سامنے آئے ہیں۔

پیرس میں سائنسز پو یونیورسٹی میں دھرنا دینے والے طلباء کو ہٹانے کے لیے پولیس داخل ہو گئی۔

کینیڈا کی معروف میک گل یونیورسٹی میں ایک احتجاجی کیمپ پھیل گیا ہے جہاں بدھ کے روز منتظمین نے اسے "بلا تاخیر" ہٹانے کا مطالبہ کیا۔

تاہم پولیس نے اس جگہ کے خلاف جمعہ تک کارروائی نہیں کی تھی۔

حماس کے زیرِ انتظام علاقے کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل کی انتقامی کارروائیوں میں غزہ میں 34,600 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں