امریکی کیلیفورنیا یونیورسٹی میں اسرائیلی جنگ کے خلاف طلبہ ریلی کا پولیس محاصرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

امریکہ جہاں ان دنوں امریکہ کے سب سے پسندیدہ ملک اسرائیل کی غزہ جنگ کے خلاف یونیورسٹیوں میں توانا آواز ابھر رہی ہے۔ اتوار کے روز کیلیفورنیا یونیورسٹی میں بھی جنگ مخالف طلبہ نے ایک بڑی ریلی کا اہتمام کیا۔

تاہم امریکی پولیس نے اس جنگ کے خلاف نعروں اور مطالبوں والی طلبہ ریلی کو امن کے لیے محاصرے میں لے لیا ۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی کے جاری کردہ بیان کے مطابق پولیس نے علاقے کو طلبہ سے خالی کرا لیا گیا ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سےاسرائیلی جنگ کے خلاف اکٹھے ہو کر احتجاج کرنے والے طلبہ کو انتباہ کیا گیا تھا کہ ' اگر آپ کیمپس کے مرکزی حصے میں ہیں تو براہ کرم یہاں سے نکل جائیں۔ جولوگ کیمپس سے نہیں نکلیں گے انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔'

جب یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ' ایکس ' پر ان طلبہ کو یہ انتباہ کیا گیا تو کیلیفورنیا یونیورسٹی کے طلبہ فلک شگاف اانداز میں ' فلسطین کو آزاد کرو ' کے نعرے لگا رہے تھے۔ تاہم ان نعروں کے بعد انتظامیہ کی قوت برداشت جواب دے گئی اور اعلان کر دیا گیا کہ ٹھیک پندرہ منٹ میں کیمپس خالی کر دیا جائے بصورت دیگر سب کو گرفتار کر لیا جائے گا۔'

بعد ازاں پولیس نے پہلے مرحلے پر 93 طلبہ کو گرفتار کر لیا۔ بتایا گیا ہے کہ یہ پہلی گرفتاری 24اپریل کو عمل میں لائی گئی تھی۔ تاہم نجی یونیورسٹی میں زیادہ تر ماحول پر امن ہی رہا ہے۔ البتہ توجہ طلبہ کی گرفتاریوں کی طرف چلی گئی ہے۔

ورجینیا یونیورسٹی میں ہفتے کے روز 25 طلبہ کو گرفتار کیا گیا، اس دوران امریکہ کی پولیس نے فلسطین کے حق میں نعرے لگانے والے طلبہ کے ساتھ مڈ بھیڑ بھی کی۔ ان طلبہ نے یونیورسٹی میں پر امن انداز میں لگائے گئے ٹینٹ کو خالی کرنے اور ٹینٹ اکھاڑنے سے انکار کیا تھا۔ یہ طلبہ بھی جنگ مخالف نعرے لگا رہے تھے۔

یونیورسٹی اف مشی گن میں بھی یہی صورت حال تھی۔ طلبہ نے یہاں بھی جنگ مخالف نعرے لگائے اور تقریبات کے دوران فلسطینی پرچم لہرا دیے۔

ایک نجی یونیورسٹی کی طرف سے فلسطینیوں کی حمایت میں تقریر کرنے والے مسلمان طالبعلم کی تقریر روکنے کو بھی سارا دن موضوع بحث بنایا گیا۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے یہ فیصلہ اپریل کے وسط میں کیا تھا۔ لیکن اس پر ابھی بھی تنقید جاری ہے اور اسے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کہا جا رہا ہے۔

امریکی یونیورسٹی نے تقریر پر یہ پابندی امن کے لیے خطرات پیدا ہونے کے بہانے سے لگائی تھی۔ کیونکہ اس پر بعض یہودی طلبہ نے اعتراض کیا تھا کہ تقریب میں طلبہ کو تقریر کی اجازت کیوں دی جا رہی ہے۔

یونیورسٹی کی انتظامیہ نے بعد ازاں 10 مئی کو ہونے والے گریجوایشن کی اس تقریب کو ہی منسوخ کر دیا ہے جس میں 65 ہزار لوگ متوقع تھے اور طلبہ کی تقریروں کا بھی امکان تھا۔ منسوخی کی وجہ یہ بنی کہ اسرائیلی جنگ مخالف ماحول میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو جمع ہونے کا موقع نہ ملے۔

اس نوعیت کی دیگر تقریبات جن میں سکولوں اور کالجوں کی الگ الگ تقریبات بھی شامل تھیں وہ ابھی شیڈول میں شامل ہیں۔ یہ تقریبات جمعرات سے اتوار تک جاری رہیں گی۔ لیکن نجی کیمپس میں لوگوں کی آمد و رفت کو کافی حد تک قدغنوں کا شکار کر دیا گیا ہے۔ اپریل کے اواخر سے اب تک یونیورسٹی سے الحاق کے لیے کسی کو اجازت نہیں دی گئی۔

ہفتے کی شام کو آن لائن کی گئی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ احتجاجی طلبہ ترانے گا رہے ہیں اور نعرے لگا رہے ہیں لیکن یہ پرامن انداز کے ساتھ ہے۔ تاہم پولیس کی کارروائی کا بھی امکان موجود ہے۔ طلبہ نے اپنا یہ احتجاجی کیمپ یونیورسٹی کے سبزہ زار میں لگایا ہے۔ درجنوں خیمے لگے ہیں اور کئی جگہوں پر عارضی باڑ لگائی گئی ہے۔ مختلف جگہوں پر فلسطین کی حمایت میں پیغامات تحریر کیے گئے ہیں۔

یونویرسٹی انتظامیہ کا ایک نمائندہ ایک بیان پر سناتا ہے اور کیمپ میں موجود طلبہ سے کہتا ہے 'انہیں نیچے ہونا چاہیے تھا۔' کیمپوں کا لگایا جانا توڑ پھوڑ اور یونیورسٹی کی ملکیتی جگہ کو چرانے اور قانون کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔'

جمعہ کی صبح طلبہ کے اس احتجاج کے خلاف بھی کئی احتجاجی لوگ جمع ہونا شروع ہوگئے۔ یہ لوگ اسرائیل کی جنگ کے حامی اور یونیورسٹی میں جنگ مخالف مظاہروں کے خلاف ہیں جو یونیورسٹی سبزہ زار میں لگائے گئے کیمپوں کے سامنے آکر مخالفانہ نعرے بازی کر رہے ہیں۔ تاہم انہیں روکنے کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ موجود نہیں ہے۔

ورجینیا یونویرسٹی میں طلبہ کی گرفتاریاں

ورجینیا یونویرسٹی کے طلبہ نے یونویرسٹی لان میں اور شیپل سکول کے سمانے احتجاج کیا۔ ہفتے کے روز ایک ویدٰو میں دکھایا گیا ہے کہ پولیس نے کیمپس میں داخل ہو کر ان مظاہرین کو جو 'فلسطین کو آزاد کرو' کے نعرے لگا رہے تھے ان ک وروکنے کی کوشش کی اور کہا یہ احتجاج غیر قانونی ہے۔

پولیس نے آگے بڑھ کر طلبہ کو گراؤنڈ کی طرف دھکیل دیا۔ ان کے بازو مروڑے اور ان پر تکلیف دینے والا کیمیکل پھینکا۔ یہ بات یونیورسٹی میں انگریزی کے اسسٹنٹ پروفیسر نے واشنگٹن پوسٹ کو بتائی۔ انگریزی کے اس استاد کا کہنا تھا کہ وہ اس دوران جب بچوں پر کیمیکل پھینکا جا رہا تھا طلبہ کی مدد کر رہے تھے۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے اس بارے میں کہا ہے کہ طلبہ نے یونویرسٹی کے سبزہ زار میں کیمپ لگا کر سکول کی پالیسی کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس لیے انہیں کہا گیا تھا کہ یہ کیمپ ختم کر دیں۔ اسی وجہ سے ورجینیا پولیس کی مدد طلب کی گئی تھی تاکہ وہ یونیورسٹی میں قانون کا نفاذ کریں۔

امریکی یونیورسٹیوں میں احتجاج کا یہ اہم ترین ہفتہ رہا۔ انڈیانا یونیورسٹی اور پرنسٹن یونیورسٹی میں فلسطین کی آزادی کے حق میں اور اسرائیلی جنگ کے خلاف طلبہ نے پرزور احتجاج کیا اور نعرے لگائے۔ اس دوران طلبہ نے فلسطین کی شناخت بن چکے اس رومال کو بھی گلے میں حمائل کر رکھا تھا جو عام طور پر فلسطینی شہری اوڑھتے ہیں۔

بلومنگٹن کیمپس کو احتجاج کا ایریا قرار دیا گیا تھا جہاں پر میموریل سٹیڈیم میں تقریب جاری تھی۔ نیو جرسی کی پرنسٹن یونیورسٹی میں 18 امریکی طلبہ نے بھوک ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ تاکہ غزہ میں اسرائیلی جنگ کے دوران فلسطینیوں کی ہلاکتوں پر احتجاج کر سکیں۔

طلبہ کے احتجاج کے دوران امریکی پولیس نے 15 طلبہ کو گرفتار کر لیا۔ یہ طلبہ یونیورسٹی انتظامیہ کی ایک عمارت کے سامنے دھرنا دے رہے تھے۔

کئی اور تعلیمی اداروں میں بھی امریکی طلباء کی اسرائیلی جنگ کے خلاف احتجاج کی لہر جاری رہی ہے اور پورے امریکہ میں امریکہ کی اسرائیل نواز پالیسی کے خلاف طلبہ کا احتجاج زبان زد عام ہے۔ جبکہ اسرائیل نے غزہ میں مکمل تباہی کے بعد اب رفح پر زمینی جنگ شروع کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں