جنگ روکے بغیر کسی معاہدے کو قبول نہیں کریں گے: حماس

حماس کا جواب آنے تک اسرائیل کوئی وفد قاہرہ نہیں بھیجے گا: میڈیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read


حماس کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ حماس غزہ میں جنگ بندی کے ایسے معاہدے پر کسی بھی صورت میں راضی نہیں ہوگی جس میں واضح طور پر جنگ کا خاتمہ شامل نہیں ہوگا۔ سینئر عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بات کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پر الزام لگایا کہ وہ ذاتی وجوہات کی بنا پر جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حماس نے درخواست کی ہے کہ معاہدے میں ایک واضح اور صریح متن شامل کیا جائے جس میں لکھا ہو کہ یہ مکمل اور مستقل جنگ بندی کا معاہدہ ہے ۔ دوسری طرف اسرائیل نے اب تک اس نکتے کو مسترد کیا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل نے اعلان کیا کہ وہ اس وقت تک اپنا وفد قاہرہ نہیں بھیجے گا جب تک حماس کا ردعمل نہیں آجاتا۔ اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز نے کہا ہے کہ ہمیں ابھی تک حماس کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا ہے اور اس جواب کے ملنے پر جنگی کونسل میں اس پر بات کی جائے گی۔

ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے کہا کہ حماس کے جواب میں یرغمالیوں کے معاہدے کے فریم ورک کے حوالے سے مثبت پیش رفت دیکھی گئی تو اسرائیل غزہ جنگ بندی پر بات چیت مکمل کرنے کے لیے ایک وفد قاہرہ بھیجے گا۔ عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہم جو چیز دیکھ رہے ہیں وہ یرغمالیوں کے معاہدے کے فریم ورک میں ایک ممکنہ معاہدہ ہے۔ توقع یہ ہے کہ کسی حقیقی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات مشکل اور طویل ہوں گے۔ اہلکار نے مزید کہا کہ اگر ہم موساد کے سربراہ کی قیادت میں ایک وفد قاہرہ بھیجتے ہیں تو یہ فریم ورک کے حوالے سے ایک مثبت پیش رفت کا اشارہ ہو گا۔

اس سے قبل حماس کے ایک اعلی عہدیدار نے بتایا تھا کہ حماس کا مذاکراتی وفد ہفتہ کو جنگ بندی کی تجویز پر نئے مذاکرات کے لیے قاھرہ پہنچا ہے۔ حماس رہنما نے کہا ہم صرف یہ سوچ رہے ہیں کہ اپنے لوگوں جو ہمارا اصل سرمایہ ہیں کے خلاف جارحیت کو کیسے روکا جائے۔

واضح رہے قطر، مصر اور امریکہ بطور ثالث اسرائیل کی جیلوں میں قید فلسطینی قیدیوں کے یرغمالیوں کے تبادلے اور 40 دنوں کے لیے لڑائی بند کرنے کی تجویز پر حماس کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔ اگر کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ نومبر کے آخری سات روز جاری رہنے والی جنگ بندی کے بعد پہلی مرتبہ کوئی جنگ بندی ہوگی۔ اس وقت 240 فلسطینی قیدیوں کے بدلے میں 80 اسرائیلیوں سمیت 105 یرغمالیوں کو رہا کیا گیا تھا۔

مذاکرات مہینوں تک جمود کا شکار رہے جس کی ایک وجہ حماس کی جانب سے مستقل جنگ بندی کے مطالبات اور غزہ سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے جنوبی غزہ کے شہر رفح پر زمینی حملہ کرنے کے بار بار بیانات کی وجہ سے تھے۔ رفح پر بڑے پیمانے پر زمینی حملے کا امکان جہاں دس لاکھ سے زیادہ شہری پناہ لیے ہوئے ہیں، بین الاقوامی تشویش میں اضافہ کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں