حوثی ملیشیا نے صنعا میں حماس کو میزبانی کی پیشکش کرکے نیا تنازعہ کھڑا کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

گذشتہ گھنٹوں کے دوران پھیلنے والی ان اطلاعات کے بعد کہ قطر حماس اور اسرائیل کے درمیان ثالثی میں اپنے کردار کا جائزہ لے رہا ہے۔ دوسری جانب دوحہ میں تحریک کے سیاسی دفتر کو بند کرنے کے امکان کے ساتھ حوثیوں کی ایک نئی پیش کش سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے حماس کو صنعا میں اپنا سیاسی دفتر کھولنے کی متنازعہ آفر کی ہے۔

یمنی گروپ کے سیاسی بیورو کے رہنما محمد البخیتی نے صنعا میں حماس کے رہ نماؤں کی میزبانی کی پیشکش کی۔
"ایکس" پلیٹ فارم پر پوسٹ کردہا یک بیان میں بخیتی نے کہا کہ "صنعا کو حماس تحریک کے سیاسی دفتر کی میزبانی کرنے کا اعزاز حاصل ہے، چاہے نتائج کچھ بھی ہوں"۔

"چاہے آسمان ہی کیوں نہ گرجائے"

البخیتی نے مزید کہا کہ ہم حماس کی میزبانی کے لیے تیار ہیں چاہیے ہم پرآسمان ہی کیوں کہ ٹوٹ پڑے۔

تاہم اس پیشکش نے کچھ ٹویٹرز کی طرف سے تنقید اور تضحیک کی لہرکو جنم دیا، جنہوں نے اسے صنعا یونیورسٹی میں امریکی یونیورسٹیوں میں احتجاج کرنے والے طلباء کی میزبانی کی پیشکش کے مترادف سمجھا۔

کچھ صارفین نے اسے "غیر منطقی" قرار دیا۔

دوسروں نے حوثیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی کاز میں بولی اور تجارت بند کریں۔

جب کہ متعدد ٹویٹرز نے کہا کہ "حماس کے لیے کسی ریاست میں پناہ لینا زیادہ فائدہ مند ہے نہ کہ ملیشیاؤں میں"۔

یہ الجھن اس وقت پیدا ہوئی جب قطری حکومت کے جائزے سے واقف ایک اہلکار نے انکشاف کیا کہ وہ غزہ کی جنگ میں ثالثی کے کردار کے وسیع تر جائزے کے حصے کے طور پر حماس کے سیاسی دفتر کو بند کر سکتا ہے۔

اہلکار نے کل رائٹرز کو بتایا کہ دوحہ اس بات پر غور کر رہا ہے کہ آیا حماس کو اپنا سیاسی دفتر چلانے کی اجازت دی جائےیا اسے بند کردیا جائ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں