فلسطینی نژاد برطانوی ماہر سرجن کو فرانس میں داخل ہونے کی اجازت سے انکار کر دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فلسطینی نژاد برطانوی ڈاکٹرغسان ابو ستہ کو فرانس نے اپنے ہاں داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے۔ فرانس نے اس ممتاز سرجن کی یہ انٹری اس وقت بین کی ہے جب جرمنی اس سے پہلے ہی ایک سال کے لیے ان کے جرمنی میں داخل ہونے پر پابندی لگا چکا ہے۔

برطانوی شہریت کے حامل ممتاز سرجن نے چالیس دن غزہ کی جنگ کے زخمی فلسطینیوں کی سرجری کی رضاکارانہ خدمات انجام دی ہیں ۔ وہ غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ جنگ اور جنگی مصائب کے بہت کھلے الفاظ میں تنقید کرتے ہیں۔

فرانس میں داخلے کی اجازت نہ ملنے کے حوالے سے ڈاکٹر غسان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم' ایکس ' پر لکھا ' میں فرانس کے چارلس ڈیگال ائیر پورٹ پر ہوں جہاں مجھے فرانس میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔ مجھے آج فرانس کی سینیٹ میں بات کرنی ہے، مگر ان کا کہنا ہے کہ جرمنی میں ایک سال کے لیے میرے یورپ میں داخل ہونے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ '

ڈاکٹرغسان نے اس ٹویٹ کے بعد اپنے اگلے ہی ٹویٹ میں لکھا ' یورپ کے اس قلعے نے اس بات پرخاموشی اختیار کر رکھی ہے کہ اسرائیل جو نسل کشی کر رہا ہے۔ اسرائیل انہیں جیل میں بند کر کے مار رہا ہے۔ '

معلوم ہوا ہے کہ فرانس کے حکام ڈاکٹر غسان کو فرانس میں داخلے سے روکنے کے باوجود پہلی ہی پرواز سے واپس برطانیہ بھیجنے سے انکاری ہیں بلکہ انہیں آخری پرواز سے واپس برطانیہ بھیجنے پر اصرار کر رہے ہیں۔

واضح رہے پچھلے ماہ کے دوران ڈاکٹر غسان کو گلاسگو یونیورسٹی کا ریکٹر منتخب کیا گیا ہے۔ وہ طبی میدان کے علاوہ معلمی کے شعبے میں بھی بڑا نام ہیں۔ مگر جرمنی نے ان کے یورپ میں داخلے پر اس وقت پابندی لگا دی جب وہ برلن میں ایک کانفرنس میں لیکچر دینے جانے کا ارادہ رکھتے تھے۔

جرمنی کو خدشہ تھا کہ کانفرنس میں فلسطینی پر بات ہو گی، فلسطینیوں کی نسل کشی کی بات ہو گی اور غزہ کی پٹی پر جوصورت حال موجود ہے اس کے بھی بات ہوگی۔ جو کہ اسرائیل کا اتحادی ہونے کے سبب جرمنی کو قبول نہیں ہے۔ اس لیے یورپ میں آزادی رائے کے تمام تر غوغے کے باوجود فلسطین کے موضوع پر ہونے والی سنجیدہ کانفرنس کو بھی جرمنی نے روک دیا ہے۔ خیال رہے اب تک غزہ میں اسرائیلی بمباری اور ٹینکوں کی گولہ باری سے 34654 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔

54 سالہ ڈاکٹر غسان اس سے پہلے برطانیہ کی پولیس کو غزہ کے ہسپتالوں کی صورت حال ، زخمیوں کے واقعات اور زخمیوں کے مکمل چیک اپ کے بعد فوجداری عدالتی تحقیقات کے بارے میں بریف کر چکے ہیں۔ نیز یہ بھی بتا چکے ہیں کہ زخمی فلسطینیوں کو کس قسم کے ہتھیاروں سے مارنے کی کوشش کی گئی یا وہ کن ہتھیاروں سے زخمی ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں