مصر:بچے کے قاتل کا اس کے اعضا ساڑھے پانچ ملین پائونڈزمیں فروخت کرنے کالرزہ خیز انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

مصری پبلک پراسیکیوشن "شبرا الخیمہ بچے" کے طور پر مشہور ہونے والے قتل کے بارے میں اپنی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔ چند روز پیشتر پیش آنے والے اس لرزہ خیز جرم میں جرائم پیشہ عناصر نے بچے کو ورغلا کر ایک قاہرہ کے قریب "عزبہ عثمان" کے مقام پر ایک خالی فلیٹ میں لے گئے جہاں بچے کو نہ صرف بے رحمی سے قتل کیا گیا بلکہ اس وحشیانہ واردات کی کویت میں موجود ایک مصری کے ساتھ پچاس لاکھ پاؤنڈ کے بدلے اس کی ویڈیو کال کی گئی۔

استغاثہ نے وضاحت کی کہ مقدمے میں مرکزی ملزم طارق قہواجی کے علاوہ چار دیگر بھی شامل ہیں۔

ملزموں کے 5 مختلف کردار

کیس پیپرز نمبر 1820 آف 2024ء محکمہ فرسٹ شبرا الخیمہ کے انتظامی محکمے نے پانچ ملزمان کے کردار وں کا انکشاف کیا۔بچے احمد محمد کے قتل کی ذمہ داری ملزم طارق کو سونپی گئی۔ طارق ایک عادی مجرم ہے اور اس کے سابقہ ریکارڈ پر ایسے سنگین جرائم موجود ہیں اور اس کی نگرانی کی جاتی تھی۔
دوسرا مجرم اس قتل پر اکسانے والا ہے جس کی شناخت علی الدین کے نام سے ہوئی ہے۔

جب کہ اس کے والد تیسرے ملزم کا موبائل فون استعمال کای گیا جس کے ذریعے اس کے بیٹے نے پہلے ملزم سے رابطہ کیا تھا، پولیس کی تحقیقات میں ابھی تک اس بات کا تعین نہیں ہوسکا کہ اسے تیسرے ملزم کو بچے کے قتل کا علم تھایا نہیں۔

کیس کے کاغذات میں وضاحت کی گئی کہ "چوتھے ملزم نےیوری کا کردار طارق کو ادویات اور آلات کی فراہمی تھی۔ تاہم اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ ملزم اسے اپنے سنگین جرم کے لیے استعمال کررہا ہے۔

پانچواں ملزم ٓانسانی اعضاء کا دلال تھا اوراس کاپہلے ملزم کے ساتھ رابطہ تھا۔ پہلے ملزم نے پانچویں ملزم کو اپنا ایک گردہ قانونی طور پرپہلے فرخت کیا تھا۔ اب تک کی تحقیقات میں یہ ثابت نہیں ہوسکا کہ وہ بچے احمد کے قتل میں ملوث ہے۔

تحقیقات سے معلوم ہوا کہ پہلے ملزم طارق نےاعتراف کیا کہ اس نے کچھ عرصہ قبل اپنا گردہ سرکاری طور پر فروخت کیا تھا اور اسے ثابت کرنے کے لیے پولیس ڈپارٹمنٹ میں ایک کیس کی رپورٹ لکھی تھی۔اس نے اسے گردے کے خریدار کو ہدایت کی۔ جب اسے رقم مل گئی اس نے اپنے اپارٹمنٹ کے لیے نیا فرنیچر خریدا، پھر وہ پریشان ہو گیا اور اسے بیچ دیا۔ اس کیفے کے مالک جہاں وہ کام کرتا تھا کے ساتھ جھگڑا ہواجس پر اس نے اسے اس جگہ سے نکال دیا تھا۔

ڈارک ویب

"شبرا الخیمہ میں ایک بچے کو قتل کرنے" کے ملزم نے کہا کہ "اسے کسی بھی شکل میں پیسے چاہیے تھے۔ اس لیے اس نے اپنے جگر کا ایک لوب بیچنے کا سوچا۔ اس نے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ پر ایک گروپ میں ایک پوسٹ لکھی۔ یہ دوسرے ملزم علی الدین سے اس کی واقفیت کا آغاز تھا، جس نے اس سے کویت سے رابطہ کیا۔ اس نے اسے بتایا کہ وہ ایک ڈاکٹر ہے۔

کویت میں موجود اس شخص نے مصری طارق سے کہا کہ وہ ایک بچے کے اعضا فراہم کرے۔ طارق نے چوبیس گھنٹے کے اندر اندر ایک بچے کو نہ صرف قتل کردیا بلکہ اس کے اعضا تک نکال لیے۔

پولیس کو معلوم ہوا ہے کہ مقتول بچہ قاتل کو پہلے سے جانتا تھا اور اس کے کیفےمیں جاتا رہا ہے جہاں ملزم اسے پیسے دیتا اور اسے مٹھیاں دیتا تھا۔

پہلے ملزم نے بتایا کہ "س نے احمد کو اس کے گھر کے آس پاس سے اس اپارٹمنٹ میں لے جا کر اپنا جرم انجام دیا جہاں یہ جرم ہوا تھا۔ اس نے چوتھے ملزم سے نیند کی گولی حاصل کی جسے بچے کو دیا گیا۔جب بچہ بے ہوش ہوگیا تو اسے کمرے میں چھوڑ دیا گیا۔
اس کے بعد کویت میں موجود شخص علی الدین رابطہ کیا۔اس نے بتایا کہ اس نے یہ واردات کیسے کی اور چاقو اور دیگر چیزوں سے آنتیں اور انسانی اعضاء نکالے اور ہر عضو کی قیمت لاکھوں میں مقرر کی۔ اس نے اسے بتایا کہ آنتوں کی قیمت 2.5 ملین پاؤنڈ ہے اور پھیپھڑوں کی قیمت 3 ملین پاؤنڈ ہے۔

مجرم نے بتایا کہ اس نے بچے کے سینے کو ہتھوڑے سے توڑا۔پیٹ کاٹا۔ اس کی پسلیاں توڑیں۔ خصیے نکالے۔ دل اور آنکھیں نکالنے کے بعد ملزم علی الدین کوبتایا کہ اس نے یہ سب کچھ ایک آٹھ سالہ بچے کے قتل کے بعد حاصل کیا ہے تو وہ بھی حیران ہوا۔

قاتل کےثبوت کے لیے کسی کے پاس معلومات نہیں تھی مگر مقتول بچے کے خاندان کو اس پر شبہ ہوا۔ انہوں نے اس کے بارے میں پولیس کو بتایا جس نے اس کے اپارٹمنٹ پر چھاپہ مارا تو وہاں پر بچے کی لاش ملی جس کے بعد اسے پکڑلیا گیا۔

تحقیقات کی پیشرفت سے واقف ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ "دوسرا ملزم علی الدین نام نہاد "ڈارک ویب" پر جن ویڈیوز کی تشہیر کر رہا تھا ان کی ابھی جانچ کی جا رہی ہے اور اس بات کی تصدیق کی جائے گی کہ آیا انہیں قاہرہ میں فلمایا گیا تھا یااس سے باہر۔ تاہم قتل کی اس گھنائونی واردات نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے اوراس جرم میں ملوث تمام کرداروں کو عبرت ناک سزا دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں