نیویارک کی یہودی عبادت گاہوں، عجائب گھر کو بم کی جعلی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں: حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شہر کے ایک اہلکار اور پولیس نے بتایا کہ ہفتے کے روز نیویارک میں کم از کم تین عبادت گاہوں اور ایک عجائب گھر کو بم کی دھمکیاں موصول ہوئیں لیکن نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ نے کسی کو بھی قابلِ اعتبار نہیں سمجھا۔

مین ہٹن بورو کے صدر مارک ڈی لیوائن نے ایکس پر کہا کہ عبادت گاہ میں بم کی دھمکیاں "واضح نفرت انگیز جرم اور یہودی اداروں کو نشانہ بنانے والے 'کاری ضرب لگانے والے' واقعات کے بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہیں۔"

انہوں نے کہا، "یہ یہودی کمیونٹی میں خوف پیدا کرنے کی واضح کوشش ہے۔ اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔"

اینٹی ڈیفیمیشن لیگ نے گذشتہ ماہ اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ اکتوبر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد یہودی مخالف جذبات میں اضافہ ہوا جس کی وجہ سے امریکہ میں حملے، غنڈہ گردی اور ہراساں کرنے کے یہود دشمن واقعات گذشتہ سال دگنے سے بھی زیادہ بڑھ کر ایک ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے۔

پولیس کے ایک ترجمان نے کہا کہ ہفتے کے روز متعدد دھمکیاں موصول ہوئیں جن میں بروکلین عجائب گھر کو اور بروکلین ہائٹس میں ایک عبادت گاہ کو ای میل کی گئی دھمکی بھی شامل ہے لیکن اس حوالے سے کسی بھی دھماکہ خیز ڈیوائس کا کوئی سراغ نہیں ملا۔

پولیس نے کہا کہ مین ہٹن میں دو عبادت گاہوں بشمول ویسٹ سائڈ کی ایک عبادت گاہ کو بھی بم کی دھمکیاں موصول ہوئیں جس کی بنا پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 250 افراد کو وہاں سے نکال دیا لیکن کچھ نہیں ملا۔

نیویارک ریاست کی گورنر کیتھی ہوچل نے ایکس پر کہا کہ ریاستی اہلکار "نیویارک میں عبادت گاہوں میں بم کے متعدد خطرات کی سرگرمی سے نگرانی کر رہے تھے۔ دھمکیوں کے قابلِ اعتبار نہ ہونے کا تعین کیا گیا ہے۔"

ہوچل نے مزید کہا، "ہم خوف اور سام دشمنی کے بیج بونے والے افراد کو برداشت نہیں کریں گے۔ ذمہ داروں سے ان کے قابلِ نفرت اعمال پر جواب طلبی ہونی چاہیے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں