آسٹریلیا کی قنطاس ایئرویز پروازوں کی منسوخی کامقدمہ نمٹانے کے لیے9 ملین ڈالراداکرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

آسٹریلیا کی قنطاس ایئرویز نے پہلے ہی منسوخ شدہ پروازوں کے ہزاروں ٹکٹوں کی فروخت کا مقدمہ نمٹانے کے لیے 120 ملین آسٹریلوی ڈالر (79 ملین امریکی ڈالر) ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے تاکہ ایئر لائن کی شہرت کو درپیش بحران ختم ہو جائے۔

قنطاس اور آسٹریلین کمپیٹیشن اینڈ کنزیومر کمیشن (اے سی سی سی) نے پیر کو کہا کہ کمپنی 86,000 سے زیادہ صارفین کے درمیان 20 ملین آسٹریلوی ڈالر تقسیم کرے گی جنہوں نے نام نہاد "فرضی پروازوں" کے ٹکٹ بک کروائے تھے۔ اور ایئرلائن نے پہلے مقدمہ لڑنے کا جو ارادہ کیا تھا، اس کا دفاع کرنے کے بجائے وہ 100 ملین آسٹریلوی ڈالر جرمانہ ادا کرے گی۔

یہ جرمانہ کسی آسٹریلوی ایئر لائن کے لیے اور اس شعبے میں عالمی سطح پر کام کرنے والے اداروں کے لیے اب تک کا سب سے بڑا جرمانہ ہے حالانکہ کچھ آسٹریلوی بینکوں اور جوا خانے چلانے والوں کو قانون کی خلاف ورزی پر اس سے بھی زیادہ جرمانے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ایئرلائن کی سی ای او وینیزا ہڈسن نے ایک بیان میں کہا، "ہم اعتراف کرتے ہیں کہ قنطاس نے صارفین کو مایوس کیا ہے اور ہمارے معیارات سے کمتر ثابت ہوئی ہے۔"

ستمبر میں اپنا عہدہ سنھالنے والی ہڈسن نے مزید کہا، تصفیے کا "مطلب ہے کہ اگر مقدمہ وفاقی عدالت میں جاری رہتا تو ہم (عدالت کے دیئے ہوئے وقت کی نسبت) متأثرہ صارفین کو بہت جلد معاوضہ دے سکتے ہیں۔"

اگر عدالت منظور کر لے تو تصفیے سے تنازعہ حل ہو جائے گا جو ایک ایسے وقت میں نمایاں تھا جب صارفین کے سروے میں قنطاس کی قدر و قیمت میں کمی واقع ہوئی تھی جس کی وجہ پروازوں کی منسوخی کے بارے میں شکایات میں اضافہ تھا۔ گذشتہ اگست میں اے سی سی سی کے مقدمہ دائر کرنے کے بعد طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے ہڈسن کے پیشرو ایلن جوائس نے اپنی ریٹائرمنٹ آگے بڑھا دی۔

اے سی سی سی کی چیئر جینا کاس گوٹلیب نے ایک بیان میں کہا، "یہ جرمانہ۔۔ دوسری کمپنیوں کو ایک مضبوط تسدیدی پیغام بھیجے گا (کہ وہ ایسے رویئے سے باز رہیں)۔"

البتہ ایل ایس ای جی کے اعداد و شمار کے مطابق ادائیگی 1.47 بلین آسٹریلوی ڈالر کے خالص منافع کے مقابلے میں کم ہو جائے گی جس کے بارے میں تجزیہ کاروں کی پیش گوئی ہے کہ اوسطاً قنطاس سال کے آخر میں جون تک رپورٹ کرے گی۔ ایئر لائن اور ریگولیٹر نے کہا کہ جن لوگوں نے غیر موجود اندرونِ ملک پروازوں کے ٹکٹ خریدے، انہیں 225 آسٹریلوی ڈالر ملیں گے اور بین الاقوامی کرایہ ادا کرنے والے افراد کو رقم کی واپسی کے اوپر مزید 450 آسٹریلوی ڈالر ملیں گے۔

آسٹریلیا کی وسیع سٹاک مارکیٹ میں 0.6 فیصد اضافے کے برعکس قنطاس کے حصص دیر سے ہونے والی ٹریڈنگ میں نہ منافع کما رہے تھے اور نہ ہی خسارے میں تھے۔

آر بی سی کیپٹل مارکیٹس کے تجزیہ کار اوون بیریل نے کلائنٹ کے ایک نوٹ میں کہا، "ہمارے نزدیک آج کے نتائج اضافے والے مثبت نتائج ہیں جس سے کووڈ کے بعد کے ایک اور برانڈ اور ویلیویشن اوور ہینگ سٹاک مارکیٹ سے ختم ہو گیا ہے۔"

قنطاس بدستور یہ جاننے کی منتظر ہے کہ اسے تقریباً 1,700 گراؤنڈ ہینڈلنگ سٹاف کو کتنی رقم ادا کرنی ہوگی جنہیں 2020 میں ملازمت سے فارغ کر دیا تھا جب عدالت نے ملازمتوں میں کٹوتیوں کو غیر قانونی پایا تھا کیونکہ ان کا مقصد صنعتی عمل روکنا تھا۔

اے سی سی سی کا مقدمہ کووڈ-19 کی دو سالہ پابندیوں کے بعد 2022 میں آسٹریلیا کی سرحد کے دوبارہ کھلنے کے مہینوں اور اس بات پر مرکوز تھا جب عملے کی کمی کے باعث عالمی سطح پر ایئر لائن کی منسوخی اور سامان کی گمشدگی کی شکایات میں اضافہ ہوا۔

قنطاس نے استدلال کیا کہ اسے انہی چیلنجز کا سامنا تھا جو دنیا بھر کی ایئر لائنز کو درپیش ہوتے ہیں لیکن اے سی سی سی نے کہا کہ اس کے اقدامات سے صارفین کے قانون کی خلاف ورزی ہوئی۔ اس نے کہا تھا کہ ایئر لائن نے بعض اوقات پروازیں منسوخ ہونے کے ہفتوں بعد ٹکٹ فروخت کیے۔

اے سی سی سی کی جینا کاس گوٹلیب نے نوٹ کیا کہ تصفیہ میں قنطاس کی طرف سے اس طرزِ عمل کو نہ دہرانے کا وعدہ شامل تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں