طلبہ مظاہرے: امریکی یونیورسٹیوں میں معمول کی کلاسز کی بحالی کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکہ میں جنگ بندی کے حامی طلبہ کے احتجاج سے پیدا شدہ صورت حال کے باعث آن لائن منتقل کر دی گئیں یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کی کلاسز کو انتظامیہ نے دوبارہ کلاس روم میں لانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

یہ بات کیلی فورنیا یونیورسٹی آف لاس اینجلس کی انتظامیہ نے بتائی ہے۔ انتظامیہ نے اپنے اعلان میں کہا ہے پیر کے روز سے از سر نو معمول کے مطابق کلاسز کے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق 'غزہ میں اسرائیلی جنگ کی مخالفت کرنے والے اور جنگ کے حامی طلبہ کے درمیان پچھلے دنوں ہونے جھڑپوں کے بعد اب صورت حال سنبھل چکی ہے۔ '

واضح رہے غزہ میں سات ماہ سے جاری اسرائیلی جنگ میں فلسطینیوں کی 34 ہزار سے زائد ہونے والی ہلاکتوں اور خصوصاً بچوں اور فلسطینی عورتوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں نے امریکی طلبہ و طالبات کے ضمیر کو غیر معمولی طور پر جنجھوڑا ہے۔ جس کی وجہ سے امریکی جوبائیڈن انتظامیہ کی اسرائیلی نواز پالیسی کے برعکس یونیورسٹیوں میں کئی ہفتے سے سخت احتجاجی لہر سامنے آئی۔

یونیورسٹی کے کیمسز سے جنگ بندی اور فلسطین کی آزادی کے حق میں آوازیں بلند ہوئیں اور جوبائیڈن انتطامیہ کی طرف سے اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی کے خلف غم و غصہ ظاہر کیا جاتا رہا۔ اس ان آوازوں کو دبانے کے لیے پولیس اور یونیورسٹیوں کی انتظامیہ نے سختی اور دباؤ کی حکمت عملی اپنائی جبکہ جنگ کی حمایت میں مظاہروں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔

جنگ کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپیں ہونے لگیں تو یونیورسٹیوں کی انتظامیہ نے کلاسز کو آن لائن کرنے کے اعلانات شروع کر دیے۔ جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے پولیس کے ذریعے یونیورسٹی کیمپس سے طلبہ کو زبردستی نکالنا شروع کر دیا ور کم از کم مجموعی طور پر دوہزار طلبہ کو مختلف کیمپسز سے گرفتار کیا گیا۔

تاہم اب کیلیفورنیا یونیورسٹی آف لاس اینجلس نے اعلان کیا ہے کہ کلاس دوبارہ سے معمول کے مطابق شروع کر دی گئی ہیں اور یہ سلسلہ پیر کے روز شروع ہوا ہے۔ پیر کے روز جنگ کے مخالف طلبہ کا احتجاج قابو میں رہا تو اگلے پورے ہفتے کے دوران بھی کلاسز معمول کے مطابق جاری رکھی جائیں گی۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ کیلیفورنیا یونیورسٹی آف لاس اینجلس کے ارد گرد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نفری تعینات رہے گی تاکہ احتجاج کو روکا جا سکے۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی کے چانسلر جین بلاک نے کہا ہے کہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ پولیس کے علاوہ اب یونی ورسٹی کو بھی اپنے سکیورٹی کے منصوبے کو زیادہ بہتر بنانا ہو گا اور اس سلسلے میں آنے والے دنوں میں اقدامات کیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا اس سلسلے میں پوری یونیورسٹی کو ایک اکائی کے طور پر سامنے رکھتے ہوئے حکمت عملی تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ تاکہ ایک اکائی کی واحد لیڈر شپ سب جگہوں کے لیے مشترکہ سیکورٹی پلان ترتیب دے اور رہنمائی کرے۔

صدر جوبائیڈن جن کی اسرائیلی جنگ اور اسرائیل کے بارے میں پالیسی اور فیصلوں کو امریکہ میں بہت ساری سطحوں بشمول کیمپسز کی سطح پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے نے یونیورسٹیوں میں حکم کے غلبے کی حمایت کی ہے۔ کہ انتظامیہ کی رٹ رہنی چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں