اسرائیل رفح تک جنگی پھیلاؤ کو روکے اور امدادی سامان کے لیے راہداریاں فوری کھول دے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل آنتونیو گوتریس نے اسرائیل سے کہا ہے کہ غزہ کے لیے امدادی سامان کی ترسیل ممکن بناتے ہوئے رفح کی راہداری کو کھول دے اور رفح تک جنگی پھیلاؤ کو روک دے۔ سیکرٹری جنرل نے یہ مطالبہ رفح میں اسرائیلی فوجی ٹینکوں کے داخل ہونے اور رفح راہداری کو بند کیے جانے کے بعد کیا ہے۔

سیکرٹری جنرل نے خبردار کیا 'اسرائیل کی طرف سے جو کچھ ہو رہا ہے یہ غلط سمت میں ہے اور میں اس کی وجہ سے بہت پریشان اور تشویش میں مبتلا ہوں اور اس کی وجہ اسرائیلی فوج کا رفح میں حملوں کی تجدید کرنا ہے۔ '

انہوں نے مطالبہ کیا کہ 'اسرائیل فوری طور پر رفح اور کرم شالوم کی راہداریوں کو کھولے کیونکہ غزہ میں پہلے ہی بھوک کی وجہ سے صورتحال تباہ کن ہے۔ اس لیے ان دونوں راہداریوں کو فوری کھولنا ضروری ہے۔'

اسرائیلی فوج نے غزہ کے مشرقی حصے سے اس وقت چڑھائی کی ہے جب ایک روز قبل اسرائیلی فوج نے اس علاقے سے فلسطینیوں کو جبری طور پر نکالنا شروع کیا تھا۔ جبکہ کافی دنوں سے اسرائیل اپنی فوج کو رفح میں اتارنے کے لیے تیاری کر رہا تھا۔

اسرائیل نے رفح میں اپنے فوجی ٹینک داخل کر کے زمینی حملے کا آغاز غزہ کی جنگ کے ٹھیک آتھویں ماہ کے پہلے روز کیا ہے۔ اب تک غزہ میں 34740 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ جن میں بڑی تعداد میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔ تاہم اسرائیل نے رفح پر حملے کا آغاز کر دیا ہے۔ جس سے مزید تباہی اور ہلاکتوں کا خطرہ ہے۔

انتونیو گوتریس نے کہا کہ 'میں اسرائیلی حکومت پر زور دے کر کہتا ہوں کہ کسی بھی قسم کی کشیدگی میں پھیلاؤ سے رک جائے۔ نیز مثبت اور تعمیری سفارتی مکالمے کو ترجیح دے۔ جیسا کہ اس وقت کوششیں چل بھی رہی ہیں۔'

ان کا کہنا تھا 'کیا عام شہریوں کی بہت زیادہ ہلاکتیں نہیں ہو گئیں۔ کیا بہت زیادہ تباہی نہیں ہو چکی۔ اب مزید غلطیاں نہ کریں۔ رفح پر مکمل حملہ ایک بہت بڑی انسانی تباہی کا باعث بنے گا۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں