امریکہ: 'ایم آئی ٹی 'میں احتجاجی کیمپ خالی کرنے کے بعد طلبہ مظاہرین کا عمارت پر قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکہ میں انجنئیرنگ کی تعلیم کی حوالے دنیا بھر میں معروف ادارے 'میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی' ( ایم آئی ٹی) میں غزہ جنگ کے مخالف طلبہ نے انتظامیہ کی طرف سے کیپمس اور لگائے گئے خیمے خالی کرنے کی ڈیڈ لائن پر کیمپ خالی کرنے کے بعد پھر سے واپس اپنی احتجاجی جگہوں پر پہنچنا شروع کر دیا ہے.

غزہ کی جنگ کی مخالفت کرنے والے ان ایم آئی ٹی کے طلبہ کو دھمکی دی گئی تھی کہ وہ لگائے گئے خیمے رضاکارانہ خالی کر دیں بصورت دیگر یونیورسٹی سے اپنے اخراج کے لیے تیار ہو جائیں۔'ان طلبہ نے پیر کے دن کے لیے اس دھمکی کے مطابق کیمپ خالی کر کے جانا شروع کر دیا۔

    البتہ پیر کی رات بھی اس کے باوجود درجنوں مظاہرین پُرسکون انداز سے کیمپ میں ہی موجود رہے۔ وہ مقررین کو سن رہے تھے اور نعرے بھی لگارہے تھے۔ تاہم بعد ازاں انہوں نے پیزا منگوا کر رات کے کھانے کے طور پر استعمال کیا۔

    ایم آئی ٹی مکینیکل انجینئرنگ گریجوایشن کرنے والے اور غزہ میں جنگ کے مخالف' ایم آئی ٹی جیوز ' کے رکن سام اہنس نے کہا ' طلبہ گزشتہ دو ہفتوں سے کیمپ میں موجود ہیں اور غزہ میں زہریوں کے قتل عام کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ نیز ' ہمارا کیمپ' ایم آئی ٹی 'کے اسرائیل کی وزارت دفاع کے ساتھ تحقیقی تعلقات اور معاہدات ختم کرنے کا۔مطالبہ بھی کر رہا ہے۔

    ایم آئی ٹی میں شہری علوم کی استاد ایریکا کیپل جیمز مے ایک فیکلٹی مبصر کے طور پر احتجاج میں شرکت کی۔ ان کا کہنا تھا ' مجھے امید ہے کہ یہ دن کسی کے نقصان کے بغیر ختم ہو جائے گا ۔'
    انہوں نے مزید کہا میں توقع رکھتی ہوں کہ ' مظاہرین پر جسمانی تشدد نہیں کیا جائے گا اور انتظامیہ کے ساتھ طلبہ و اساتذہ کے مذاکرات پھر شروع ہو جائیں گے۔' ایم آئی ٹی کے ترجمان نے بھی رات گئے بتایا ہے کہ مطابق، پیر کی رات تک مظاہریں کی گرفتاری نہیں کی گئی ہے۔'

    رہوڈ آئی لینڈ سکول آف ڈیزائننگ میں پیر کی دوپہر طلبہ نے عمارت میں ہجوم کرنا شروع کر دیا تھا جس سے یہ تاثر بن رہا تھا کہ وہ ابھی احتجاج جاری رکھیں گے اور احتجاج کے لیے اسی عمارت پر قابض رہیں گے۔تاہم انتظامیہ کو اسطرح کا قبضہ سخت ناپسند ہے۔ ۔ان مظاہرین کا کہنا ہے کہ ہماری موجودگی کو قبضہ قرار دیا جا رہا مگر فلسطین پر اسرائیلی قبضہ کو روکنے کے لیے کوئی تیار نہیں۔

    ان طلبہ کے ترجمان نے کہا ڈیزائننگ سکول کے طلبہ آزادی اظہار اور پرامن اجتماع کے حقوق کی تائید کرتے ہیں نیز سٹوڈنٹ کمیونٹی کے تمام اراکین کی حمایت کرتے ہیں۔'

    ترجمان کےمطابق صدر اور پرووسٹ مظاہرین کے ساتھ موقع پر موجود ہیں اور ان کے ساتھ ملاقات کر رہے ہیں۔


    کولمبیا یونیورسٹی میں مظاہرے

    نیو یارک میں قائم قدیمی یونیورسٹی میں تین ہفتے قبل احتجاجی تحریک نے شدت پکڑ لی تھی جس نے پورے امریکہزہ میں اسرائیلی جنگ کی طرف متوجہ کر لیا ہے۔ کولمبیا یونیورسٹی میں پیر کے روز یونیورسٹی عہدیداروں نے مرکزی تقریب منسوخ کر دی ہے۔

    تاہم طلبہ سے کہا گیا ہے کہ وہ ذیلی تعلیمی اداروں کی تقریبات اپنے شیڈول کے مطابق ہوں گی۔

    کولمبیا یونیورسٹی نے پہلے ہی کلاسز بند کر دی تھیں۔ حالیہ ہفتوں میں 200 سے زائد فلسطینی حامی مظاہرین جنہوں نے کولمبیا کے سبزہ زار پر ڈیرے ڈالے تھے یا کسی تعلیمی عمارت میں جا کر بیٹھ گئے تھےنہیں گرفتار کیا گیا۔ اسی طرح کے کیمپس کہیں اور پھوٹ پڑے کیونکہ یونیورسٹیاں اس بات پر جدوجہد کر رہی تھیں کہ محفوظ اور جامع کیمپس کو برقرار رکھتے ہوئے آزادانہ اظہار کی اجازت کے درمیان فرکیسے کیا جائے۔

    پولیس کے گھیراؤ اور گرفتاری کی دھمکیوں کے بعد طلباء نے اتوار کو یو ایس سی میں اپنا کیمپ چھوڑ دیا۔ دیگر یونیورسٹیوں نے سخت حفاظتی انتظامات کے ساتھ گریجویشن کی تقاریب منعقد کیں۔

    مشی گن یونیورسٹی کی تقریب ہفتے کے روز چند نعرے لگنے کے بعد روک دی گئی۔

    صدر گریگوری فینیس نے ایک کھلے خط میں اعلن میہے کہ کہ ایموری کی تقریبات 13 مئی کو یونیورسٹی کے اٹلانٹا کیمپس سے تقریباً 20 میل دور شمال مشرق میں منعقد کی جائیں گی۔

    "16,000 طالب علموں پر مشتمل یہ یونیورسٹی ان بہت سے لوگوں میں سے ایک ہے جس نے 7 اکتوبر کو شروع ہونے والے تنازعے کےبعد بربار مظاہرے ہوئے ہیں۔

    مقبول خبریں اہم خبریں

    مقبول خبریں