حماس کے ردعمل پر بات کر رہے، رفح آپریشن کی حمایت نہیں کرینگے: امریکہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی محکمہ خارجہ کے اس اعلان کے بعد کہ واشنگٹن کو حماس کا جواب موصول ہو گیا ہے اور وہ آنے والے گھنٹوں میں شراکت داروں کے ساتھ اس پر بات چیت کرے گا وائٹ ہاؤس نے بھی اس معاملے کی تصدیق کردی۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی نے پیر کو اعلان کیا کہ امریکی صدر و بائیڈن کو حماس کے ردعمل سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی انتظامیہ اب حماس کے ردعمل کا جائزہ لینے اور اس کے مضمرات پر بات کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حماس کا ردعمل سینٹرل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر کی قیادت میں ہونے والی بات چیت کے بعد آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ رفح میں کسی فوجی آپریشن کی حمایت نہیں کر رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن نے کوئی قابل اعتبار انسانی منصوبہ نہیں دیکھا جسے رفح میں آپریشن سے پہلے نافذ کیا جا سکے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس وقت رفح میں فوجی آپریشن انسانی امداد کی ترسیل میں شدید رکاوٹ ڈالے گا۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب حماس تحریک نے پیر کے روز اعلان کیا کہ اس کے پولیٹیکل بیورو کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی اور مصری انٹیلی جنس کے سربراہ عباس کامل کو آگاہ کردیا ہے کہ حماس نے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے حوالے سے ان کی تجویز کی منظوری دیدی ہے۔

حماس کے ایک اہلکار نے ’’العربیہ‘‘ کو بتایا کہ حماس نے جنگ بندی کی مجوزہ اس تجویز پر رضامندی ظاہر کی ہے جو ثالثوں نے پیش کی تھی۔ حماس نے جن معاملات پر غور کرنے کی درخواست دی تھی ثالثوں نے اس کے جواب میں یہ یہ تجویز پیش کی ہے۔

ادھر غزہ میں حماس کے نائب سربراہ نے کہا کہ جنگ بندی کی تجویز تین مراحل پر مشتمل ایک معاہدہ ہے۔ ہر مرحلہ 42 دن پر مبنی ہے۔ مصری ثالثوں نے غزہ میں جنگ دوبارہ شروع نہ کرنے کا عہد کیا۔

واضح رہے حماس کی جانب سے مصری تجویز کی منظوری اس وقت سامنے آئی جب اسرائیلی فوج نے رفح پر حملے کی تیاری کرتے ہوئے شمالی رفح سے دسیوں ہزار فلسطینیوں کو انخلا پر مجبور کرنا شروع کردیا ہے۔ حماس کا وفد آنے والے گھنٹوں میں قاہرہ روانہ ہونے والا ہے تاکہ ثالثوں کے ساتھ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے امکان کے بارے میں بات چیت مکمل کی جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں