جنرل اسمبلی:فلسطینی ریاست کواقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دینے کی قرارداد پرووٹنگ متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

غزہ میں سات ماہ مکمل کر لینے والی اسرائیلی جنگ نے جہاں فلسطینیوں اور فلسطین کی تباہی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی وہیں 'فلسطین کاز' کو بھی غیر معمولی عالمی پذیرائی ملی ہے اور مسئلہ فلسطین چوک چوراہے سے لے اہم ترین بین الاقوامی فورمز پر پوری توانائی کے ساتھ زندہ ہو گیا ہے۔ جبکہ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے اصل چہرے بھی بے نقاب ہو گئے ہیں۔

اس سلسلے میں جمعہ کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک قرار داد کے مسودے پر ووٹنگ کا امکان بتایا گیا ہے ، جس کے تحت ایک طرف جنرل اسمبلی فلسطین کے ایک ریاست کے طور پر اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت کی اہلیت کو تسلیم کیا جائے گا اور دوسری جانب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے سفارش کی جائے گی کہ فلسطین کو مکمل رکنیت دلانے کے معاملے کو احسن انداز سے از سر نو دیکھے اور اس کی رکنیت کی منظوری کا فیصلہ دے۔

جنرل اسمبلی میں قرارداد پر ووٹنگ کے نتیجے میں 'فلسطین کاز' کے سلسلے میں ایک بڑی پیش رفت مانا جائے گا، کہ اس سے اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی فلسطین اور 'فلسطین کاز' کو اخلاقی و سیاسی حمایت کا بھی پورا اظہار سامنے آ سکے گا۔

واضح رہے پچھلے ماہ اس موضوع پر قرار داد کو امریکہ نے ویٹو کر دیا تھا۔ جس کی وجہ سے فلسطینی کی اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت کا مطالبہ کھٹائی میں پڑ گیا۔ امریکہ اسرائیل کا ازلی سرپراست اور سب سے بڑا اتحادی ملک ہے۔ اس ناطے امریکہ نے غزہ میں اسرائیلی جنگ کے سات ماہ کے دوران بھر پور انداز میں اسرائیل کا ساتھ دیا ہے ۔ حتیٰ کہ اپنے عوام کے جنگ مخالف جذبات اور خیالات کی پروا نہ کرتے ہوئے اسرائیلی جنگ جاری رکھنے کے لیے ہر بین الاقوامی فورم پر اسرائیل کی مدد دی اور جنگ بندی کی قرا دادوں کو بھی بار بار ویٹو کرتا رہا ہے۔

چونکہ کسی بھی ریاست کی مکمل رکنیت کے لیے پہلے مرحلے پر سلامتی کونسل کی منظوری لازم ہے اور بعد ازاں اس کی توثیق جنرل اسمبلی کرتی ہے اس لیے جیسے ہی امریکہ کو لگا کہ سلامتی کونسل میں مطلوب حمایت فلسطین کے لیے موجود ہے تو امریکہ نے قرار داد ویٹو کر دی۔

اب جنرل اسمبلی میں جمعہ کے روز جنرل اسمبلی کے پلیٹ فارم پر اس قرار داد کے حق میں ووٹنگ سلامتی کونسل کو عالمی رائے عامہ سے آگاہ کرنے کے لیے بھی موثر ثابت ہوگی کہ اگر دنیا کے ملکوں کی اکثریت فلسطین کو ریاست کا درجہ دینے کو تیار ہے تو امریکہ یا کوئی دوسرا ملک کیوں رکاوٹ بن رہا ہے۔

اقوام متحدہ میں موجود دنیا بھر کے ملکوں کی نمائندگی کرنےوالے سفارت کاروں کے مطابق فلسطین کے حق میں 193 رکن ملکوں کی غالب اکثریت حمایت کر سکتی ہے۔ تاہم ممکن ہے اس ووٹنگ سے پہلے قرار داد میں کچھ ترامیم کرنے کی بات بھی شروع ہو جائے۔

دوسری جانب اسرائیل کے اقوام متحدہ میں سفیر گیلاد اردان نے پیر کے روز جنرل اسمبلی میں پیش کر دہ اس قرار داد کے مسودے کی مذمت کی ہے۔ اسرائیلی سفیر کے مطابق اس قرار داد کی منظوری کی صورت میں فلسطین کو ایک ریاست کی حیثیت اور حقوق مل جائیں گے جو کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہو گی۔

اسرائیلی سفیر نے اس قرار داد کے منظور ہونے کی صورت کہا کہ امریکہ سے مطالبہ کریں گے کہ امریکہ اقوام متحدہ کے لیے اپنے فنڈز کی فراہمی روک دے۔ اردان کا کہنا ہے کہ اس قرار داد کی منظوری کے بعد بھی زمین پر کوئی بڑی تبدیلی نہیں ہو سکے گی۔

واضح رہے امریکہ نے اپنی مرضی کے خلاف اقوام متحدہ کی رکنیت حاصل کرنے والے ملکوں کے خلاف ایک پہلے سے قانون بنا رکھا ہے کہ اس کی دانست میں اگر کوئی ایسی ریاست اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت حاصل کرتا ہے جو اسے ناپسند ہے یا اس کے نزدیک رکنیت کی شرائط پوری نہیں کرتا تو امریکہ اقوام متحدہ کے فنڈ روک سکتا ہے۔

یہ امریکی قانون ایک طرح سے امریکی مطالبات نہ ماننے کی صورت اقوام متحدہ کے خلاف اقتصادی پابندیاں لگانے کا ہی ایک راستہ ہے۔ تاہم اسے اقوام متحدہ کے خلاف پابندیاں لگانے کا نام نیہیں دیا جاتا ہے۔

امریکہ 2012 میں اقوام متحدہ پر غیر علانیہ اقتصادی پابندیوں کے سلسلے میں یونیسکو کے فنڈز روک چکا ہے اور حال ہی میں اس نے ' اونروا ' کے فنڈز روکنے کا اعلان کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں