نیو یارک میں جنگ مخالف مظاہرین کی گرفتاریاں، میٹ گالا بھی گرفتاریوں کی زد میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ میں اسرائیلی جنگ آٹھویں ماہ اور کولمبیا یونیورسٹی میں ہونے والی طلبہ و دیگر جنگ مخالفین کی گرفتاریاں کولمبیا یونیورسٹی سے باہر نیو یارک کے میٹ گالا تک پہنچ گئی ہیں۔

پیر کے روز کولبیا یونیورسٹی سکے دروازے سے باہر پولیس کے ہاتھوں گرفتاریوں کا پوائنٹ یہ 'میٹ گالا' کا منظر بنا۔ جہاں متعدد افراد کو اسی بے رحمی سے گرفتار کیا گیا جس بے رحمی سے جنگ کی مخالفت کرنے والوں کے ساتھ امریکی پولیس نے یونیورسٹیوں کے اندر برتاؤ شروع کر رکھا ہے۔

امریکی جوبائیڈن انتظامیہ کی غیر رسمی طور پر ' سپانسرڈ ' پالیسی کے تحت گرفتاریوں سے لگتا ہے کہ نیو یارک کی انتظامیہ نے بھی اس پرانے محاورے کو زندہ کرنے کا موقع فراہم کر دیا ہے، جس کے تحت 'پتھروں کو باندھ دیا جاتا ہے اور کتوں کو کھول دیا جاتا ہے۔ '

اس وجہ سے گرفتاریوں کو یہ یہ منظر یونیورسٹیوں کے اندر سے 'میٹ گالا' تک پھیل گیا ہے ۔ ' میٹ گالا امریکی فیشن کی دنیا ، کے علاوہ نامورشخصیات اور میڈیا سے متعلق اداروں اور بڑے ناموں کا حوالہ ہے اور ان سب کی توجہات کی مرکز جگہ ہے۔

تاہم پیر کے روز کی گرفتاریوں کے بارے میں ابھی بھی حتمی طور پر نہیں معلوم کہ پولیس نے کتنی تعداد میں جنگ کی مخالفت کے جرم میں لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ البتہ بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' نے ان گرفتاریوں کو متعدد کا نام دیا ہے۔

ادھر غزہ کی جنگ کو برا کنے والے منتظمین نے شہر بھر میں ' یوم غیظ و غضب ' کے نام سے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹر لگایا تھا۔ تاکہ عوامی رائے کو اس جانب متوجہ کر سکیں۔ تاہم اس احتجاجی تقریب کا تعلق کولمبیا یونیورسٹی کے اندر کئی دنوں سے جاری احتجاجی مظہاروں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ امریکی یونیورسٹیوں سے باہر اور امریکی شہروں میں پھیلے امریکی ووٹرز میں بھی غزہ کی جنگ بارے غم و غصہ بڑھنے لگا ہے۔ حتیٰ کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر بھی اس جانب تشویش اور غصے کا اظہار کیا جانے لگا ہے۔ امریکی ووٹروں کے لیے 34735 فلسطینیوں کی غزہ میں ہلاکت اس وقت مزید تشویش اختیار کر جاتی ہے جب انہیں ان ہلاکتوں میں بڑی تعداد فلسطینی بچوں اور عورتوں کی نظر آتی ہے۔

اس کے باوجود اسرائیل کے لیے امریکی اسلحے کے بہاؤ میں کوئی کمی نہ ہونا امریکی ووٹرز کے لیے بڑی اہم بات ہے۔ تاہم اسرائیل حماس کو تباہ کرنے کے سلسلے میں شہری ہلاکتوں کی پروا کرنے کو تیار نہین ہے۔ اب غزہ کے شہریوں کو نشانہ بنانا اور جبراً رفح سے نکال باہر کرنے کی اسرائیلی کوشش بھی امریکہ سمیت ہر جگہ رد عمل کا باعث بن رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں