انڈیا: شوہرکے کہنے پربیوی نے معذوربچے کو مگرمچھوں کے آگے پھینک دیا

بچے کے بے رحمانہ قتل پر میاں بیوی گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کیا کوئی ماں ایسی ہوسکتی ہے جو اپنے کم سن بچے کواٹھا کرمگر مچھ کے آگے ڈال دے اور وہ اسے خون خوار جانور کی خوراک بنتا دیکھ سکے۔

جی ہاں یہ مفروضہ نہیں ایسا ہی ایک واقعہ مغربی بھارت کی ریاست کرناٹک کے ضلع اتراکھنڈ میں پیش آیا جہاں ایک ماں نے اپنے چھ سالہ معذور بیٹے کو مگرمچھوں کے لیے دریا میں پھینک دیا، جہاں رینگنے
والے جانوروں نے اس پر حملہ کر کے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

ٹائمز آف انڈیا نے اطلاع دی ہے کہ مغربی ہندوستان کی ریاست کرناٹک کے ضلع اترا کنڑ سے تعلق رکھنے والی 32 سالہ ساوتری کمار کا لڑکے کے والد 27 سالہ روی کمار کے ساتھ شدید جھگڑا ہوا جس نے اسے بار بار حکم دیا کہ بچے ونود کو جو ایک گونگا اور بہرہ پیدا ہوا تھا کو پھینک دو۔

اس جھگڑے کے بعد ہفتے کے روز ساوتری نے جس کا ایک اور بیٹا جس کی عمر دو سال ہے نے شوہر کے کہنے پرمعذور چھ سالہ بچے کو دریائے کالی میں ملتی ایک ندی میں پھینک دیا جہاں مگرمچھوں کا بسیرا رہتا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق اس نے پولیس کو بتایا کہ "اس سب کا ذمہ دار میرا شوہر ہے۔ وہ مجھ سے کہتا رہا کہ لڑکے کو مار دو اور وہ صرف کھاتا ہے۔ میں کہوں گی کہ اگر میرا شوہر یہی کہتا رہے تو میرا بیٹا کتنی اذیتیں برداشت کر سکتا ہے؟ میں اپنا درد بانٹنے کہاں جاؤں"؟

واقعے کےبعد غوطہ خوروں کو اس ندی میں بھیجا گیا مگر رات کا وقت ہونے کے باعث وہ ناکام رہے۔ اگلے دن انہیں بچے کی لاش ملی جسے بری طرح نوچھا گیا تھا۔

ایک پولیس افسر اشارہ کرتا ہے کہ لڑکے کو ایک یا زیادہ مگرمچھوں نے مارا ہوگا۔

چھ سالہ بچے کی موت کی وجہ جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم کا حکم دیا گیا ہے۔

اس جوڑے کا ایک اور دو سالہ بیٹا بھی ہے اور مبینہ طور پر وہ اپنے بڑے بیٹے کی بولنے میں رکاوٹ پر اکثر لڑتے رہتے ہیں۔

افسران نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دیں۔ ایک پولیس افسر نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ یہ "قتل" کا معاملہ ہے اور میاں بیوی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں