بائیڈن کے فیصلے سے اسرائیل ناراض، یرغمالیوں کیلئے مذاکرات خطرے میں پڑ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اکسیوس نے دو نامعلوم ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ سینئر اسرائیلی حکام نے اپنے امریکی ہم منصبوں کو خبردار کیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کا اسرائیل کو ہتھیاروں کی کچھ ترسیل معطل کرنے کا فیصلہ یرغمالیوں کے مذاکرات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا ہے کہ امریکہ نے گزشتہ ہفتے اسرائیل کو بموں کی کھیپ اس خدشے کے پیش نظر روک دی کہ تل ابیب رفح پر بڑے پیمانے پر حملہ کرنے کا فیصلہ کرنے کے قریب ہے۔

ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس کھیپ میں 1,800 بم تھے۔ ہر بم کا وزن 900 کلو گرام تھا۔ اسی طرح اس کھیپ میں 225 کلوگرام والے 1700 بم بھی تھے۔ امریکہ کے خدشات یہ رہے ہیں کہ رفح جیسے علاقے میں جہاں دس لاکھ سے زیادہ افراد پناہ لیے ہوئے ہیں میں کوئی بھی حملہ بڑا تباہ کن ثابت ہوگا۔

آسٹن نے ہتھیاروں میں تاخیر کی تصدیق کرتے ہوئے سینیٹ کی دفاعی تخصیصات کی ذیلی کمیٹی کو بتایا کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ نے ہائی پے لوڈ گولہ بارود کی ایک کھیپ کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے جو بھی ضروری ہے وہ کرتے رہیں گے کہ اسرائیل کے پاس اپنے دفاع کے لیے وسائل موجود رہیں۔ تاہم ہم فی الحال رفح میں ہونے والے حالیہ واقعات کے تناظر میں قریبی مدت میں ترسیل کی جانے والی سکیورٹی امداد کا جائزہ لے رہے ہیں۔

واضح رہے امریکہ نے تاریخی طور پر اسرائیل کو بڑے پیمانے پر فوجی امداد فراہم کی ہے۔ بائیڈن انتظامیہ نے اس ہفتے گولہ بارود کی کھیپ روکنے کا اپنی نوعیت کا پہلا حکم جاری کیا ہے۔ یہ فیصلہ غزہ پر فضائی حملے اور انسانی امداد کی ترسیل پر پابندی کے حوالے سے بین الاقوامی اور امریکی قوانین کی خلاف ورزی کے تناظر میں کیا گیا۔

بائیڈن نے گزشتہ ہفتے پینٹاگون کو بھیجے گئے ایک حکم نامے میں عارضی معطلی پر دستخط کیے۔ وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل نے اس فیصلے کو کئی دنوں تک عوام کی نظروں سے اوجھل رکھنے کی کوشش بھی کی۔

اپریل میں بائیڈن انتظامیہ نے مستقبل میں فوجی امداد کی منتقلی کا جائزہ لینا شروع کیا کیونکہ نیتن یاہو کی حکومت وائٹ ہاؤس کی کئی مہینوں کی مخالفت کے باوجود رفح پر حملہ کرنے کے قریب پہنچ رہی تھی۔ ابھی اس بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے کہ آیا بعد کی تاریخ میں شپمنٹ کو آگے بڑھایا جائے یا نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں