نیتن یاہو اور امریکی سی آئی اے چیف کے درمیان ملاقات

رفح پر حملہ اور یرغمالیوں کی رہائی پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور امریکی سی آئی اے کے چیف رفح میں اسرائیلی جنگی مہم پر باہم تبادلہ خیال کر چکے ہیں۔ تبادلہ خیال کے دوران اس امر پر بھی غور کیا گیا ہے کہ رفح پر جنگ کو آگے بڑھائے بغیر حماس سے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کیونکر ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم اور سی آئی اے چیف ولیم برنز کے درمیان ہونے والی غیر معمولی ملاقات کے بارے میں اسرائیلی حکام نے بدھ کے روز بتایا ہے۔

اسرائیلی حکام کے مطابق ' نیتن یاہو اور سی آئی اے چیف کی یہ ملاقات یروشلم میں ہوئی ۔ ولیم برنز ان دنوں اسرائیل اور حماس مذاکرات میں مدد دینے کے لیے خطے میں موجود ہیں۔ وہ قاہرہ میں کئی دن گزارنے کے بعد یہاں یروشلم پہنچے تھے۔'

دونوں کی بات چیت میں کئی آپشنز کے ساتھ ساتھ یہ آپشن بھی زیر بحث آئی کہ اسرائیل کے رفح پر حملے کو کیسے روکا جا سکتا ہے اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے حماس کو کیسے آمادہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ بھی زیر غور آیا کہ اسرائیل رفح میں اپنی جنگی مہم کو کیسے آگے بڑھائے کہ حماس یرغمالی چھوڑنے پر مجبور ہو جائے۔

واضح رہے اسرائیل رفح پر اپنے حملے کے سلسلے میں عالمی برادری کی طرف سے آنے والے دباؤ کی مزاحمت کرتے ہوئے رفح میں اپنے فوجی ٹینک داخل کر چکا ہے۔ وہاں سے فلسطینی پناہ گزینوں کو جبری طور پر نکلنے کے لیے کہہ چکا ہے اور رفح راہداری کو بھی اسرائیلی فوج اپنے کنٹرول میں لے چکی ہے۔

اسرائیل کی طرف سے یہ جنگی پیش رفت پیر اور منگل کے روز سامنے آئی جب اسرائیلی فوج نے رفح میں جگہ جگہ بمباری کر کے رہائشی مکانات کو تباہ اور متعدد فلسطینیوں کو ہلاک کیا۔

رفح پر یہ اسرائیلی حملہ اس کے باوجود کیا گیا کہ حماس جنگ بندی کے لیے آمادگی ظاہر کر چکی تھی۔ لیکن اسرائیل نے اپنے جنگی منصوبے کو مؤخر رکھنے سے انکار کر دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں