اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنے والے ممالک: رفح حملوں کے درمیان کس ملک نے برآمدات روک دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

امریکہ نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی ترسیل معطل کردی ہے جس میں بھاری مورچہ شکن بم بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی افواج نے حماس کے خلاف جنگ میں غزہ میں ان بموں کا استعمال کیا ہے جس میں سات ماہ میں تقریبا 35،000 فلسطینی جاں بحق ہو گئے ہیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے غزہ کے شہر رفح پر فوجی حملہ کرنے کے فیصلے پر اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو کی براہِ راست مخالفت کی جس کی وجہ وہاں بڑی تعداد میں کمزور بے گھر افراد کی موجودگی ہے۔

امریکہ شرقِ اوسط میں اپنے قریب ترین حلیف اسرائیل کو سب سے بڑا اسلحہ فراہم کنندہ ہے جس کے بعد جرمنی اور اٹلی ہیں۔ جرمنی کی اسرائیل کے لئے مضبوط حمایت نازی ہولوکاسٹ (جنگِ عظیم دوئم میں یہودیوں کے قتلِ عام) کے جزوی کفارے کی عکاسی کرتی ہے۔

دو ممالک کینیڈا اور نیدرلینڈز نے اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی اس تشویش کی بنا پر روک دی ہے کہ انہیں غزہ میں بین الاقوامی انسانی ہمدردی کے قانون کی خلاف ورزی کرنے کے طریقوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے مثلاً شہری ہلاکتیں اور رہائشی علاقوں کی تباہی۔

اسرائیل کے ہتھیاروں کے فراہم کنندگان کی کچھ تفصیلات درجِ ذیل ہیں:

ریاست ہائے متحدہ

امریکی عہدیداروں کے مطابق اسرائیل کو اسلحہ کی معطل کردہ ترسیل میں 2000 پاؤنڈ (907 کلوگرام) وزنی 1800 بم اور 500 پاؤنڈ وزنی 1700 بم تھے۔ ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ 2000 پاؤنڈ وزنی بموں کے حتمی استعمال اور گنجان آباد شہری علاقوں (مثلاً رفح) پر ان کے اثرات کے بارے میں خدشات کی بنا پر یہ فیصلہ ہوا۔

2016 میں امریکہ اور اسرائیل نے 2018-2028 تک کی دس سالہ مدت پر محیط مفاہمت کی ایک تیسری یادداشت پر دستخط کیے جس میں فوجی امداد کے لیے 38 بلین ڈالر، فوجی سامان خریدنے کے لئے گرانٹ میں 33 بلین ڈالر اور میزائل دفاعی نظام کے لئے پانچ بلین ڈالر مختص کیے گئے تھے۔ سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ایس آئی پی آر آئی) کے مارچ میں جاری کردہ ایک حقائق نامے کے مطابق اسرائیل نے 2019-2023 کے عرصے میں امریکہ سے اپنی فوجی امداد کا 69 فیصد حاصل کیا۔

اسرائیل امریکی ایف-35 جوائنٹ اسٹرائیک جنگی طیارے کا پہلا بین الاقوامی آپریٹر ہے جسے تکنیکی طور پر اب تک کا جدید ترین لڑاکا طیارہ سمجھا جاتا ہے۔ اسرائیل 75 ایف-35 طیارے خریدنے کے عمل میں ہے اور - گذشتہ سال تک - 36 طیارے حاصل کر چکا ہے جن کی ادائیگی امریکی امداد کی رقم سے کی گئی۔

امریکہ نے اسرائیل کو اس کے مختصر فاصلے والے آئرن ڈوم راکٹ کے دفاعی نظام کو ترقی دینے اور مسلح کرنے میں بھی مدد کی ہے جو اسرائیل اور لبنان میں مقیم حزب اللہ کے مابین 2006 میں ہونے والی جنگ کے بعد تیار کیا گیا۔ راستے میں روک دینے والے میزائلوں میں کمی پورا کرنے میں مدد کے لئے امریکہ نے بار بار اسرائیل کو سینکڑوں لاکھوں ڈالر بھیجے ہیں۔

مزید یہ کہ واشنگٹن نے اسرائیل کے "ڈیوڈ'ز سلنگ" نظام کی ترقی کی میں مالی اعانت کی ہے جسے 100 تا 200 کلومیٹر (62 میل سے 124 میل) کے فاصلے سے داغے گئے راکٹوں کو مار گرانے کے لئے بنایا گیا ہے۔

جرمنی

اسرائیل کے لئے جرمنی کی دفاعی برآمدات کی منظوری 2022 کے مقابلے میں 2023 میں تقریبا دس گنا بڑھ کر 326.5 ملین یورو (351 ملین ڈالر) ہو گئی تھی کیونکہ برلن نے اسرائیل پر سات اکتوبر کے حملے کے بعد برآمدی اجازت ناموں کی درخواستوں کو ترجیح دی تھی۔

البتہ اس سال کے آغاز سے چونکہ غزہ میں اسرائیل کی جنگ پر بین الاقوامی تنقید ہوئی ہے تو ایسا لگتا ہے کہ جرمن حکومت نے اسرائیل کو جنگی ہتھیاروں کی کافی کم برآمدات کی منظوری دی ہے۔ پارلیمنٹ میں بائیں بازو کے ایک قانون ساز کے سوال کا جواب دیتے ہوئے 10 اپریل کو وزارتِ اقتصادیات نے بتایا کہ اُس وقت تک صرف 32،449 یورو کے برابر ترسیل کی اجازت دی گئی۔

پہلے 2023 کے اعداد و شمار کی اطلاع دینے والی جرمن پریس ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق جرمنی بنیادی طور پر اسرائیل کو فضائی دفاعی نظام اور مواصلاتی سامان کے لئے اجزاء فراہم کرتا ہے۔

برآمد ہونے والے ہتھیاروں میں 3،000 اٹھائے جا سکنے والے ٹینک شکن ہتھیار اور خودکار یا نیم خودکار آتشیں اسلحہ کے لئے گولہ بارود کے 500،000 راؤنڈ شامل تھے۔ ڈی پی اے نے کہا کہ زیادہ تر برآمدی لائسنس زمینی گاڑیوں اور ان کو ترقی دینے کے لیے ٹیکنالوجی، پرزہ جات کو جوڑنے، بحالی اور مرمت کے لئے دیئے گئے تھے۔

ایس آئی پی آر آئی کے اعداد و شمار کے مطابق جرمنی نے 2019-23 میں اسرائیل کی فوجی امداد کا تقریباً 30 فیصد فراہم کیا ہے۔

اٹلی

وزارتِ خارجہ کے ایک ذریعے نے نو مئی کو اس بات کی تصدیق کی کہ امریکہ اور جرمنی کے ساتھ اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرنے والے تین بڑے ممالک میں سے ایک اٹلی نے غزہ جنگ کے آغاز سے ہی برآمدات کی نئی منظوریاں روک دی تھیں۔ ذریعے نے رائٹرز کو بتایا، "سب کچھ رک گیا۔ اور آخری آرڈرز کی ترسیل نومبر میں ہوئی تھی۔"

اطالوی قانون کے تحت ان ممالک کو اسلحہ کی برآمدات پر پابندی عائد ہے جو جنگ لڑ رہے ہوں اور جو بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوں۔

مارچ میں وزیرِ دفاع گائڈو کروسیٹو نے کہا تھا کہ اٹلی نے اسرائیل کو اسلحے کی برآمد جاری رکھی ہے لیکن صرف پہلے سے دستخط شدہ آرڈرز مکمل ہو رہے تھے۔ یہ یقینی بنانے کے لئے چیک کیا جاتا تھا کہ غزہ کے شہریوں کے خلاف ہتھیار استعمال نہیں ہوں گے۔

صرف دسمبر میں اٹلی نے اسرائیل کو 1.3 ملین یورو کی مالیت کا اسلحہ بھیجا جو 2022 میں اسی مہینے کے مقابلے میں تین گنا زیادہ تھا۔

ایس آئی پی آر آئی کی رپورٹ کے مطابق مبینہ طور پر ہیلی کاپٹروں اور بحری توپ خانے سمیت اٹلی نے 2019-23 میں اسرائیل کی فوجی امداد کا تقریبا ایک فیصد فراہم کیا۔

برطانیہ

برطانیہ اسرائیل کے بڑے فراہم کنندگان میں سے ایک نہیں ہے۔ امریکہ کے برعکس برطانیہ کی حکومت اسرائیل کو براہِ راست ہتھیار نہیں دیتی بلکہ کمپنیوں کو ہتھیار فروخت کرنے کے لیے لائسنس دیتی ہے - اکثر امریکی سپلائی چینز کے اجزاء مثلاً ایف-35 جیٹ طیاروں کے لیے۔

گذشتہ سال برطانیہ نے اسرائیل کو کم از کم 42 ملین پاؤنڈ (52.5 ملین ڈالر) کا دفاعی سامان فروخت کرنے کے لیے برآمدی لائسنس جاری کیے۔ یہ لائسنس گولہ بارود، بغیر پائلٹ کے فضائی گاڑیاں، چھوٹے ہتھیاروں کا گولہ بارود اور ہوائی جہاز، ہیلی کاپٹروں اور رائفلز کے اجزاء کے لیے تھے۔

برطانیہ کے وزیرِ اعظم نے جمعرات کو پارلیمنٹ کو بتایا کہ برطانیہ نے دنیا کی ایک سخت ترین لائسنسنگ کنٹرول کی حکومت چلائی جس میں وقتاً فوقتاً اسرائیل کی انسانی ہمدردی کے قانون کی پاسداری سے متعلق مشوروں کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے کہا، "تازہ ترین جائزے کے بعد برآمدی لائسنسوں کے حوالے سے کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔"

حزبِ اختلاف کی بائیں بازو کی بعض جماعتوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیشِ نظر برآمدی لائسنس منسوخ کرے اور اس جائزے تک پہنچنے کے لیے کہ اسلحے کی برآمدات جاری رہ سکتی ہیں، استعمال ہونے والے قانونی مشورے کو شائع کرے۔

کینیڈا

کینیڈا کی حکومت نے 20 مارچ کو کہا کہ اس نے 8 جنوری سے اسرائیل کو اسلحے کی برآمدات کے لیے لائسنس دینا بند کر دیا اور یہ انجماد جاری رہے گا جب تک اوٹاوا اس بات کو یقینی نہیں بنا لیتا کہ اسلحے کو انسانی قانون کے مطابق استعمال کیا جائے گا۔ انسانی حقوق کے بین الاقوامی گروپوں کے مطابق اسرائیلی بمباری اور زمینی کارروائیوں سے غزہ میں جاں بحق ہونے والوں میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔

سات اکتوبر کے بعد سے کینیڈا نے کم از کم 28.5 ملین کینیڈین ڈالر (21 ملین ڈالر) مالیت کے نئے اجازت ناموں کی منظوری دی تھی جو گذشتہ سال کے اجازت ناموں کی مالیت سے زیادہ تھی۔

نیدرلینڈز

ہالینڈ کی حکومت نے فروری میں نیدرلینڈز کے گوداموں سے اسرائیل کو ایف-35 جیٹ طیاروں کے پرزہ جات کی ترسیل روک دی تھی جب اپیل کورٹ کے فیصلے میں یہ طے پایا کہ یہ پرزہ جات انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے استعمال ہونے کا خدشہ تھا۔ حکومت اس فیصلے کے خلاف اپیل کر رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں