تجاویز میں ترمیم پر غور کے لیے غزہ میں جنگ بندی مذاکرات میں وقفہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اگرچہ مصر نے اس بات کی تصدیق کی کہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے مذاکرات حماس اور اسرائیل کے وفود کے گذشتہ روز قاہرہ سے روانہ ہونے کے بعد جاری ہیں، تاہم اس نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کون سی رکاوٹیں تھیں جو دونوں وفود کی روانگی کا باعث بنیں۔

دریں اثناء حماس نے اعلان کیا ہے کہ گیند اب تل ابیب کے کورٹ میں ہے۔ اب اسرائیل کے سامنے پیش کی گئی نئی تجاویز اور ترامیم کے حوالے سے اسرائیلی جواب کا انتظار ہے۔ اس نئی تجویز پر مصری دارالحکومت میں گذشتہ دنوں سے بحث کی جا رہی تھی۔

یہ ترمیم کیا ہے؟

ایسا لگتا ہے کہ حماس کی طرف سے پیش کی گئی ترمیم کا تعلق ابتدائی مرحلے میں جنگ بندی کی مدت سے ہے۔

"سی این این" کے مطابق بات چیت سے واقف تین ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ حماس کی طرف سے گذشتہ منگل کو پیش کی گئی ترامیم میں شامل ہے کہ اسرائیل نے چھ ہفتوں کے بجائے 12 ہفتوں کے لیے لڑائی کے ابتدائی خاتمے پر پیشگی رضامندی ظاہر کی ہے۔

اس سے قاہرہ میں گذشتہ منگل کو حماس، اسرائیل، مصر اور قطر کے علاوہ امریکہ کے وفود کی شرکت کے ساتھ شروع ہونے والے مذاکرات میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔

بے گھر افراد رفح میں
بے گھر افراد رفح میں

توقف

دوامریکی عہدیداروں نے وضاحت کی کہ اس وقت بات چیت میں "عارضی توقف" ہے۔

مصری وزیر خارجہ سامح شکری نے اپنے امریکی ہم منصب انٹونی بلنکن کے ساتھ ایک فون پر بات کرتے ہوئے مذاکراتی فریقوں پر لچک دکھانے اور جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے ضروری کوششیں جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ غزہ میں انسانی المیے کا خاتمہ اور جنگ سے متاثرہ لوگوں تک پائیدار امداد کی رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ بات اس وقت سامنے آئی جب ایک سینیراسرائیلی اہلکارنے اعلان کیا کہ اسرائیل نے قیدیوں کی رہائی کے معاہدے کے لیے حماس کی تجویز پر اپنے تحفظات ثالثوں کے سامنے پیش کیے ہیں۔

اگرچہ گزشتہ منگل سے قاہرہ میں ہونے والے مذاکرات میں معاہدے تک پہنچنے میں رکاوٹ بننے والی تجاویز کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں تاہم بتایا گیا کہ حماس نے مستقل جنگ بندی پر کاربند رہے، جب کہ اسرائیلی وفد نے درخواست کی کہ اس اصطلاح کو پائیدارجنگ بندی سے تبدیل کیا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں