حماس کے جنگجوؤں کے تعاقب کے لیے اسرائیل کو متبادل منصوبہ پیش کیا ہے:وائٹ ہاؤس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کو بعض ہتھیاروں کی ترسیل روکنے کے بعد اور اس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان ناراضی میں اضافے کے بعد امریکہ نے کہا ہے کہ اس نے تل ابیب کے سامنے حماس ارکان کے تعاقب کے لیے متبادل منصوبہ پیش کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی صدرجو بائیڈن نے اپنی ٹیم کو حماس تحریک کو "مستقل طور پر شکست دینے" کے لیے اسرائیل کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کا حکم دیا ہے۔

امریکہ کا متبادل منصوبہ کیا ہے؟

وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ امریکہ نے اس کھیپ کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے اسے اسرائیل بھیجے جانے سے روک دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن نے اسرائیل کو حماس کے ارکان کا پیچھا کرنے کے لیے کچھ متبادل راستے پیش کیے ہیں۔

یہ بات صدر بائیڈن کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے کہ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ کے فراہم کردہ بموں کے فلسطینی شہریوں کے خلاف استعمال کے بعد اسرائیلی فوج کو ان کی فراہمی روک دی گئی ہے۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے "سی این این" کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ اسرائیل کو فراہم کردہ 907 کلو گرام وزنی بموں کو اسرائیل نے شہری آبادی پر گرایا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر شہریوں کی اموات ہوئی ہیں۔

امریکی صدر نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "اگر اسرائیل رفح میں داخل ہوتا ہے تو ہم اسے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے تاریخی طور پر استعمال ہونے والے ہتھیار فراہم نہیں کریں گے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں