سپین اور آئرلینڈ فلسطین کو بطورِ ریاست تسلیم کریں گے: یورپی یونین کے سربراہ بوریل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے جمعرات کے اواخر میں کہا، سپین، آئرلینڈ اور یورپی یونین کے دیگر رکن ممالک 21 مئی کو فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے یہ بات اقوامِ متحدہ میں فلسطین کے مکمل رکن بننے کے لیے جمعے کو ہونے والی متوقع ووٹنگ سے قبل کہی۔

ہسپانوی وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز نے مارچ میں کہا تھا کہ سپین اور آئرلینڈ نے دو ریاستی حل کو دیرپا امن کے لیے ضروری سمجھتے ہوئے سلووینیا اور مالٹا کے ساتھ مل کر اس بات پر اتفاق کیا کہ اسرائیل کے پہلو بہ پہلو فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے پہلا قدم اٹھایا جائے۔

مقامی ہسپانوی ریڈیو سٹیشن آر این ای پر پوچھا گیا کہ کیا 21 مئی کو سپین، آئرلینڈ اور یورپی یونین کے دیگر ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیں گے تو بوریل نے سلووینیا کا بھی نام لیتے ہوئے اثبات میں جواب دیا۔

انہوں نے کہا، "یہ ایک سیاسی نوعیت کا علامتی عمل ہے۔ ایک ریاست سے زیادہ وہ وجود قائم رکھنے کے لیے اس ریاست کی خواہش کو تسلیم کرتی ہے۔" نیز انہوں نے کہا کہ بیلجیم اور دیگر ممالک غالباً اس معاملے میں ساتھ دیں گے۔

اس سے قبل ہسپانوی وزیرِ خارجہ جوز مینوئل الباریس نے کہا تھا کہ تسلیم کرنے کا فیصلہ ہو چکا تھا اگرچہ انہوں نے کوئی تاریخ نہیں بتائی تھی۔

غزہ میں اسرائیل کی جارحیت سے ہلاکتوں کی تعداد کے ساتھ جنگ بندی اور فلسطینی-اسرائیلی تنازعہ کے مستقل خاتمے کے لیے بین الاقوامی مطالبات میں اضافہ ہوا ہے۔

اسرائیل نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کو تسلیم کرنے کا منصوبہ گویا "دہشت گردی کے انعام" کی تشکیل ہے جس سے مذاکرات کے ذریعے غزہ تنازعہ کے حل ہونے کے امکانات کم ہو جائیں گے۔

جمعہ کے روز جنرل اسمبلی تیار ہے کہ فلسطینیوں کی اقوامِ متحدہ کا مکمل رکن بننے کی کوشش کی حمایت کی جائے اور اس کی شمولیت کی اہلیت تسلیم کر کے درخواست اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو واپس بھیج دی جائے تاکہ وہ اس "معاملے پر بطریقِ احسن نظرِ ثانی کرے"۔

آئرلینڈ کے قومی نشریاتی ادارے آر ٹی ای نے جمعرات کو کہا کہ سپین، آئرلینڈ، سلووینیا اور مالٹا اقوامِ متحدہ کی ووٹنگ کے منتظر تھے اور 21 مئی کو اسے مشترکہ طور پر تسلیم کرنے پر غور کر رہے تھے۔

ہسپانوی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے فوری طور پر تبصرہ کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ دوسرے ممالک کی جانب سے اس تاریخ پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

سلووینیا کے وزیر ِاعظم رابرٹ گولوب نے اس ہفتے کے شروع میں کہا تھا کہ ان کا ملک جون کے وسط تک فلسطین کی ریاست کو تسلیم کر لے گا۔

1988 سے اقوامِ متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے 139 نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں