یہودی طلبہ کو برطانوی یونیورسٹیوں میں تحفظ دیا جائے، ہراساں نہ ہونے دیا جائے:رشی سونک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

غزہ میں آٹھ ماہ سے جاری جنگ میں فلسطینیوں کے اندھے قتل عام کے بعد یورپ کے دوسرے ملکوں کی طرح برطانیہ میں بھی یہودی طلبہ کے لیے مشکلات پیدا ہونے لگی ہیں۔ اس صورت حال پر تشویش کا اظہار برطانوی وزیر اعظم رشی سونک کی طرف سے یونیورسٹیوں کے سربراہوں سے ایک ملاقات کے دوران ملاقات میں سامنے آیا ہے۔

رشی سونک نے یونیورسٹیوں کے سربراہان سے کہا ہے کہ یہودی طلبہ کے تحفظ کا اہتمام کریں اور انہیں یہود مخالفت کا شکار نہ ہونے دیں نہ ہی انہیں مٹھی بھر اقلیتی احتجاجی اور جنگ مخالف طلبہ کے احتجاج سے ہراساں ہونے دیں۔

برطانوی وزیر اعظم نے یونیورسٹی سربراہان سے یہ درخواست جمعرات کے روز کی ہے جب امریکہ اور یورپ کے دوسرے ملکوں کی طرح برطانیہ کے یونیورسٹی طلبہ بھی غزہ میں عورتوں اور بچوں کی ہزاروں کی تعداد میں ہلاکت اور مسلسل جاری اسرائیلی جنگ کے خلاف احتجاجی کیمپ لگا رہے ہیں۔ یہ احتجاجی طلبہ جنگ بندی کا مطالبہ کرنے کےعلاوہ اسرائیل کو اپنے ملکوں سے اسلحہ فراہمی روکنے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔

ان یونیورسٹی طلبہ نے اپنے اس احتجاج کے لیے یونیورسٹیوں کے اندر احتجاجی کیمپ لگا کر غزہ جنگ کے خلاف دھرنے بھی دیے ہیں، کئی یونیورسٹیوں میں سے بعض کی یونیورسٹی انتظامیہ نے پولیس کی مدد سے ان طلبہ کے کیمپ اکھڑوائے اور طلبہ کو گرفتار کوایا ہے۔

لیکن اب بھی بہت سارے کالجوں میں غزہ جنگ کے خلاف طلبہ کا پر امن احتجاج جاری ہے۔ جس سے یہودی طلبہ فلسطینیوں کے حق میں نعروں سے ہراسگی محسوس کرتے ہیں کہ اسرائیل کی غزہ میں خوفناک جنگ کے منفی اثرات انہیں نہ جھیلنے پڑ جائیں۔

واضح رہے غزہ میں 34904 فلسطینی جاں بحق ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔جبکہ غزہ کی تباہی کی خوفناکی کا یہ عالم ہے کہ اس سے ملبہ اٹھانے میں ہی چودہ سال لگ جانے کااندازہ ہے۔دنیا کی امن پسند قومیں غزہ میں فلسطینی کے اس قتل عام کو نسل کشی قرار دیتی ہیں۔

رشی سونک نے برطانیہ کی نامور یونیورسٹیوں کے سربراہان کو 10 ڈاؤننگ سٹریٹ بلا کر ان سے اس بارے میں بات چیت کی ہے اور احتجاجی طلبہ کو جنگ بندی کے مطالبات کے ساتھ آگے بڑھنے سے روک کر یہودی طلبہ کے لیے خوف کی فضا نہ پیدا ہونے دینے کے لیے کہا ہے۔ تاہم یونیورسٹیوں کے سربراہان نے اس بارے میں کیا کہا یا کیا' ریسپانس ' دیا اس کے بارے میں ابھی کچھ سامنے نہیں آسکا ہے۔

تاہم یہ ضرور بتایا گیا ہے کہ یونیورسٹیوں کے سربراہان کو احتجاجی طلبہ کے ساتھ ' زیرو ٹالیرنس ' کی پالیسی اختیار کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ تاکہ یہودی طلبہ کے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہو اور غصزہ جنگ کے منفی اثرات سے انہیں بچایا جا سکے۔ مکالمے اور مباحثے کے موضوعات کو باوقار رکھا جائے۔سبھی طلبہ خود کو محفوظ سمجھیں۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی کی انتطامیہ یا سربراہان کے وزیر اعظم کے ساتھ ہونے والے تبادلہ خیال میں سربراہان نے کیا آراء پیش کیں یا کیا مدد طلب کی اس بارے میں کوئی بات باضابطہ بات سامنے نہیں لائی گئی ہے۔

دوسری جانب برطانیہ کی حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے کچھ سیاستدانوں نے کہ کچھ لوگ اس صورت حال کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم برطانیہ کے ترجمان کے مطابق وزیر اعظم نے تعلیم ، سلامتی اور کمیونٹیز کے وزیروں سے بھی اسی تناظر میں بات چیت کی ہے۔ اس دوران یہ چیز بھی سامنے لائی گئی ہے کہ طلبہ کی جنگ مخالف تحریک میں کچھ غیر طلبہ بھی شریک ہیں، جو کیمپسز میں گھس چکے ہیں۔

برطانیہ بھی اس وقت ان یورپی ملکوں میں شامل ہے جہاں ایک طرف حکومت کو یہود دشمنی کے واقعات میں اضافے کی رپورٹس میں اضافہ ہوتا نظر آرہا ہے اور دوسری جانب مسلمان کمیونٹیز کی طرف سے اسلام دشمنی اور مسلمان دشمنی پر مبنی واقعات میں اضافے کا بتا رہی ہیں۔ یہ واقعات عام جگہوں کے علاوہ یونیورسٹیوں میں بھی پیش آرہے ہیں۔ مغربی ممالک میں ماحول کافی زہر ناک ہوتا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں