آئی سی جے میں اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے خلاف مقدمے میں مصر بھی فریق بن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ وہ غزہ میں جاری جنگ کے تناظر میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف (آئی سی جے) میں اسرائیل کے خلاف جنوبی افریقہ کے نسل کشی کے مقدمے کی حمایت کے لیے باضابطہ فریق بننے کی تیاری کر رہا ہے۔

مصری وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ اقدام "غزہ کی پٹی میں فلسطینی شہریوں کے خلاف اسرائیلی حملوں کی بڑھتی ہوئی شدت اور دائرۂ کار" کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ فیصلہ منظم اسرائیلی طریقوں اور حملوں کے درمیان کیا گیا جنہوں نے لوگوں کو بالآخر نقلِ مکانی اور اپنی زمین چھوڑنے پر مجبور کیا ہے جس سے "ایک بے مثال انسانی بحران" پیدا ہوا ہے۔

اس سے قبل ترکی اور کولمبیا جیسے ممالک نے اسرائیل کے خلاف جنوبی افریقہ کے مقدمے میں شامل ہونے میں اپنی دلچسپی ظاہر کی تھی۔

جنوبی افریقہ نے جنوری میں عالمی عدالت سے یہ اعلان کرنے کو کہا کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا تھا اور وہ اسرائیل کو پٹی میں اپنی فوجی مہم روکنے کا حکم دے۔

آئی سی جے جسے عالمی عدالت بھی کہا جاتا ہے، نے اس کے بجائے اسرائیل کو حکم دیا کہ وہ ایسی کارروائیوں سے باز رہے جو نسل کشی کے کنونشن کے تحت آ سکتی ہوں اور اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی افواج غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کی کوئی کارروائی نہ کریں۔

مارچ میں آئی سی جے کے منصفین نے متفقہ طور پر اسرائیل کو حکم دیا کہ وہ غزہ کے فلسطینیوں تک بنیادی خوراک کی بلاتاخیر فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اور مؤثر کارروائی کرے۔

مصر کی جانب سے یہ اعلان اس بات کے بعد کیا گیا جب اسرائیل نے اس ہفتے مصر کی سرحد سے متصل رفح کے مشرقی علاقوں میں داخل ہو کر بین الاقوامی مخالفت کی نفی کی اور قریبی گذرگاہ پر قبضہ کر لیا جو محصور فلسطینی علاقے میں امداد کی ترسیل کے لیے اہم راستہ ہے۔

مصری میڈیا نے ہفتے کے روز اطلاع دی کہ ان کے ملک نے اسرائیل کو مطلع کیا کہ اس نے اسرائیل کی طرف سے "کشیدگی میں ناقابلِ قبول اضافے" کی وجہ سے رفح کراسنگ سے غزہ میں امداد کے داخلے پر اسرائیل سے رابطہ کاری کرنے سے انکار کر دیا۔

مصر نے اتوار کے روز اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ ضرورت مندوں تک امداد پہنچے اور یہ کہ اسرائیلی افواج "فلسطینی عوام کے خلاف کسی قسم کی خلاف ورزی کا ارتکاب نہیں کر رہیں۔"

بیان کے مطابق مصر نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور بااثر ممالک سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں جنگ بندی طے کروانے اور رفح میں فوجی کارروائیوں کو روکنے کے لیے اقدامات کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں