مصر کا امداد کی ترسیل کے لیے اسرائیل کے ساتھ تعاون سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کے ’’ قاھرہ‘‘ چینل کے مطابق ایک اعلیٰ سطح کے ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ کہ مصر نے رفح کراسنگ کے ذریعے امداد کے داخلے کے حوالے سے اسرائیل کے ساتھ ہم آہنگی سے انکار کر دیا۔ مصر نے غزہ کی پٹی میں حالات کی خرابی کا ذمہ دار اسرائیل کے ناقابل قبول حملے کو قرار دیا ہے۔

امن معاہدہ منسوخ کرنے کی دھمکی

اس سے قبل اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ میں بتایا تھا کہ مصری حکام نے سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز کو اسرائیل کو رفح آپریشن روکنے کی ضرورت سے آگاہ کیا ہے تاکہ امن معاہدہ منسوخ نہ کیا جائے۔

اسرائیلی اخبار "معاریف" نے رپورٹ کیا کہ مصری حکام نے حال ہی میں مصر کا دورہ کرنے والے امریکی انٹیلی جنس ڈائریکٹر کو اسرائیل پر شدید دباؤ ڈالنے اور اسے رفح میں اپنا آپریشن ختم کرنے اور سنجیدگی سے مذاکرات کی طرف واپس آنے پر مجبور کرنے کی ضرورت سے آگاہ کیا اور ایسا نہ ہونے پر اسرائیل کے ساتھ مصر کے امن معاہدے کو منسوخ ہو جانے کے امکان کا بھی بتایا۔

اخبار نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ غزہ پر جنگ کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ مصر امدادی ٹرک ڈرائیوروں سے رفح کراسنگ کے اپنی سائیڈ کے علاقے کو خالی کرنے کے لیے کہہ رہا ہے۔ مصر غزہ میں سکیورٹی صورتحال کے خراب ہونے کے خدشے سے اپنی جانب حفاظتی اقدامات کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔

منگل کو اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے پیر کے روز شروع ہونے والے فوجی آپریشن میں غزہ کی پٹی کو مصری سرزمین سے الگ کرنے والی رفح زمینی گزرگاہ کے فلسطینی حصے کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

تباہ کن خطرات

مصری وزارت خارجہ نے موجودہ ثالثی کی کوششوں کو کامیاب بنانے کے لیے تمام بین الاقوامی کوششوں کو جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے فریقین سے لچک کا مظاہرہ کرنے اور معاہدے تک پہنچنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں