نائجر نے ایران کو 300 ٹن ریفائنڈ یورینیم فروخت کرنے کی کوشش کی: فرانسیسی اخبار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فرانسیسی اخبار ’’لی مونڈے‘‘ نے ایک رپورٹ میں نائجر کی فوجی حکومت کی جانب سے ایران کو سیکڑوں ٹن ریفائنڈ یورینیم یا "ییلو کیک" فروخت کرنے کی کوشش کے بارے میں بتایا ہے۔ نائجر نے پہلے باضابطہ طور پر ایران کو یورینیم کی فراہمی سے انکار کیا تھا۔

متعدد مغربی سرکاری ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے اخبار ’’لی مونڈے‘‘ نے نائجر اور ایران کے درمیان یورینیم کی فروخت کے حوالے سے "خفیہ معاہدے" کے بارے میں ویب سائٹ "افریقہ انٹیلی جنس" کی طرف سے ڈیڑھ ماہ قبل شائع ہونے والی معلومات کی تائید کی۔

ویب سائٹ ’’افریقہ انٹیلی جنس‘‘ نے اپریل کے آخر میں انکشاف کیا تھا کہ نائجر اور ایران کے درمیان 300 ٹن پیلے رنگ کے کیک کی خریداری کے لیے خفیہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔ امریکی صدر بائیڈن کی انتظامیہ نے اس رپورٹ کو بڑی حساسیت کے ساتھ مانیٹر کیا۔ اس نے فرانسیسی کمپنی ’’یورانو‘‘ جو نائجر میں یورینیم کی کان کنی کرتی ہے کو بھی ایک حساس صورتحال میں ڈال دیا تھا۔ رپورٹ میں بتائے گئے پیلے رنگ کے کیک کی قیمت تقریباً 56 ملین ڈالر بتائی گئی ہے۔

نائجر میں صدارتی گارڈ نے گزشتہ سال اگست میں ملک کے صدر محمد بازوم کے خلاف فوجی بغاوت کی تھی اور اس کے بعد سے نائجر کے مغربی ممالک بالخصوص امریکہ اور فرانس کے ساتھ تعلقات خراب ہو گئے تھے۔ دہشت گردی کے بارے میں خدشات کے علاوہ نائجر اور خطے کے دیگر افریقی ممالک کی موجودہ صورتحال ایران کے ایٹمی معاملے کے متعلق بھی خدشات پیدا کر رہی ہے۔

یاد رہے قبل ازیں وال سٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا تھا کہ حالیہ مہینوں میں امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے اعلیٰ حکام نے ایسی معلومات حاصل کی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ نائجر کی فوجی حکومت خفیہ طور پر ایران کے ساتھ ایک معاہدے تک پہنچنے پر غور کر رہی ہے۔ اس معاہدے کے تحت تہران کو نائجر کے یورینیم کے کچھ ذخائر تک رسائی حاصل ہوجائے گی۔

نائجر یورینیم کا اہم پروڈیوسر ہے اور برطانیہ میں قائم ورلڈ نیوکلیئر ایسوسی ایشن کی ایک رپورٹ کے مطابق نائیجر 2022 میں دنیا کا ساتواں بڑا یورینیم پیدا کرنے والا ملک تھا۔ نائجر میں سالانہ تقریباً 200 ٹن یورینیم پیدا ہوتا تھا۔

فرانسیسی اخبار ’’لی مونڈے‘‘ کے مطابق فرانسیی کمپنی ’’ یورانو‘‘ 1970 کی دہائی کے اوائل سے شمالی نائجر میں کانوں یے یورینیم نکال رہی ہے۔ کمپنی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ایران کو یورینیم کی فروخت پر پابندی لگانے والی بین الاقوامی پابندیوں کی تعمیل کرے گی۔

سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے دس سال سے بھی زیادہ عرصہ قبل یعنی 2015 میں جوہری معاہدے پر دستخط سے قبل نائجر کا دورہ کیا تھا اور اس کے بعد نائجر کی جانب سے ایران کو یورینیم فراہم کرنے کے حوالے سے ایسی ہی خبریں شائع ہوئی تھیں۔ ایسا بھی لگتا ہے کہ ایران کی نائجر سے یورینیم خریدنے کی کوشش احمدی نژاد کے دور سے بھی پہلے کی ہے۔ ایجنسی فرانس پریس نے نائجر میں حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ 1984 میں ایران نے اس وقت کی ملٹری کونسل سے یورینیم خریدنے کے لیے کہا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں