ڈیوک یونورسٹی کیرولینا کی تقریب سے طلبہ کا احتجاجی واک آؤٹ

فلسطین کی آزادی کے حق میں نعرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکہ کی ڈیوک یونیورسٹی کی تقریب کے موقع پر بھی غزہ میں اسرئیلی جنگ بندی کے خلاف متحرک طلبہ فلسطین کی آزادی کے حق میں نعرے لگاتے رہے اور پھر تقریب کا احتجاجآ واک آؤٹ کر گئے۔

ان کے ان نعروں کا ایک اہم مخاطب تقریب میں بطور مہمان مقرر شریک مشہور امریکی کامیڈین جیری سین فیلڈ بھی تھا۔ جس نے غزہ می اسرائیلی جنگ کی پہلے دن سے حمایت کی اور مسلسل اسرائیل کی حمایت کر رہا ہے۔ طلبہ نے اس مہمان مقرر کی موجودگی میں بھی فلسطین کی آزادی کے لیے نعرے لگائے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ' ایکس ' پر اپ لوڈ کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ان طلبہ میں سے کئی نے فلسطینی پرچم اٹھا رکھے تھے۔ فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ٹوپیاں پہن رکھی تھیں۔طلبہ شمالی کیرولینا کی اس یونیورسٹی کی ایک گراؤنڈ میں جمع تھے۔جسے فٹبال سٹیڈیم کے طور پر استعمال کہا جاتا ہے۔

ویڈیو میں ایسے متعدد حاضرین دکھا ئے گئے ہیں ۔ جن میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے فلسطینی کوفیہ گلے میں حمائل کر رکھا ہے۔ ان طلبہ کو کھڑے ہوئے اور واک آؤٹ کر کے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ فلسطینیوں کے ساتھ اظہار کرتے ہوئے کھڑے بھی دیکھے کا سکتے ہیں۔

امریکی یونیورسٹیوں میں مسلسل دیکھنے میں آ رہا ہے کہ طلبہ غزہ کی اسرائیلی جنگ میں خواتین اور طلبہ کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے خلاف غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس غزہ جنگ میں اب تک فلسطینی وزارت صحت کے مرتب کردہ اعداوشمار کے مطابق اسرائیلی فوج نے لگ بھگ 35 ہزار فلسطینیوں کو قتل کر دیا ہے۔

جبکہ اسرائیلی جنگ میں بڑھ چڑھ کر حمایت کرنے کی امریکی جو بائیڈن انتظامیہ کی پالیسی نے بھی ان امریکی طلبہ اور اساتذہ میں سخت غم و غصہ پیدا کر رکھا ہے۔

امریکہ کی طرف سے سات اکتوبر سے جاری جنگ کی جنگ بندی کے حق میں سلامتی کونسل میں پیش کردہ کم از کم تین قرار دادوں کو امریکہ نے ویٹو کیا ہے۔ ایک قرار داد اسی سلامتی کونسل میں فلسطین کی اقوام متحدہ میں مکمل رکنیت کے سلسلے میں پیش ہوئی تو امریکہ نے اسے بھی ویٹو کو دیا ۔ مزید یہ کہ ابھی حال ہی میں اسرائیلی جنگ اور اسرائیلی فوج کی عملی حمایت کے لیے امریکہ نے اربوں ڈالر مالیت کے جنگی اسلحہ پیکج کی منظوری دی ہے۔

امریکی یونیورسٹیوں اور باشعور طلبہ میں اس کے خلاف سخت رد عمل پایا جاتا ہے۔ سینکڑوں ایسے طلبہ کو امریکی پولیس پوری بے رحمی سے گرفتار کر چکی ہے۔ متعدد طلبہ کی تعلیم پر یونی ورسٹیوں کی انتظامیہ نے قدغنیں لگا دی ہے۔ اسی کے خلاف واک آؤٹ کر کے اس تقریب سے بھی طلبہ باہر نکل گئے۔

ڈیوک یونیورسٹی میں اس نعروں کے شور کے دوران ہی مہمان مقرر جیری سینفیلڈ جسے اعزازی ڈگری لی،اپنی تقریر میں جیری ذسین فیلڈ کآ کہنا تھا' آپ میں سے بہت سے سوچ رہے ہوں گے کہ انہوں نے مجھے کافی دیر سے بلایا ہے۔ اس نے یہ بات دفاع کے حق پر زور دیتے ہوئے کہی۔ '

میں کہوں گا آپ اپنا حق استعمال کریں۔ میں ایک یہودی لڑکے کے طور پر نیو یارک میں پلا بڑھا ہوں ۔ مگر ایک کامیڈین بنناحق ہے۔جیری سین فیلڈ اسرائیل کی جنگ کا کٹر حامی ہے۔

ڈیوک یونیورسٹی کی اس تقریب سے بطور واک آؤٹ طلبہ کا باہر چلے جانا ان کی جاری احتجاجی تحریک کی اب تک کی اس یونیورسٹی میں تازہ ترین سرگرمی رہی ہے۔

امریکی یونیورسٹیوں یہ مطالبہ کرنے والے احتجاجی طلبہ جنگ بندی کی حمایت کرتے ہیں اور اسرائیل کو اس جنگ کو جاری رکھنے کے لیے اسلحہ دینے کی مخالفت کرتے ہیں۔

اس احتجاج کا موثر آغاز نیویارک کی کولمبیا یونیورسٹی ہوا، پھر یونیورسٹی آف کیلی فورنیا اس کی زد میں رہی۔حتی کہ اور بہت ساری یونیورسٹیاں اور کالجز بھی احتجاج کی زد میں آتے رہے۔ بہت سارے تعلیمی اداروں نے اپنی تقریبات کو اسی احتجاج کے خوف سے ملتوی کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں