اسرائیلی قید میں فلسطینیوں کے ساتھ تشدد اورغیرانسانی سلوک پرامریکہ کی تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کی غزہ میں سات ماہ سے زیادہ لمبی ہو جنگ کے دوران فلسطینی قیدیوں کے ساتھ بد ترین اسرائیلی سلوک کی خبروں پر پہلی بار تشویش کا اظہار کیا ہے۔امریکی دفتر خارجہ امریکی سی این این کے ذریعے اطلاعات سامنے آنے پر باخبر ہو اتو اسی روز یعنی پیر کے روز ہی اسرائیل سے کہا ہے کہ ان خبروں کی تحقیقات کرائے ۔

سی این این کی رپورٹ میں کہا گیا فلسطینی قیدیوں کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر ان پر تشدد کا نشانہ بنیا جاتا ہے اور ان کے جسموں پر سوائے ایک لنگوٹ نما کپڑا باندھنے کے انہیں بے لباس حالت میں رکھ کر ان کی بے توقیری کی جاتی ہے۔

امریکہ میں قائم ایک انسانی حقوق نیٹ ورک نے سی این این کی اس رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیل کے عرب صحرائی علاقے نیگیف میں فلسطینی قیدیوں کو اسرائیلی فوج نے غزہ سے گرفتاریوں کے بعد قید کیا ہے۔ ان میں ایسے قیدی بھی ہیں جنہیں غزہ سے زخمی حالت میں ہی گرفتار کر کے لایا گیا ہے اور ایسے بھی ہیں جو گرفتار کیے جانے کے بعد زحمی کیے گئے ہیں۔

اسرائیل میں انسانی حقوق کے حامی ایک ' وسل بلور ' ادارے نے فلسطینی قیدیوں پر نیگیف میں فوج کے تشدد کا ذکر کیا ہے۔ کہ 'اسرائیلی فوجی ان پر تشدد کے دوران انہیں عربی زبان میں انتہائی اونچی آواز میں چیختے ہوئے کہتے ' چپ رہو ، چپ ہو جاؤ اوراپنا منہ بند رکھو۔ وہ تشدد کے دوران رو سکتے ہیں نہ اف کر سکتے ہیں۔ '

سی این ای کی اسی رپورٹ کے دوسرے حصے میں دکھایا گیا ہے کہ فلسطینی قیدیوں کو ایک طبی مرکز میں رکھے ہوئے دکھایا گیا۔ اس طبی مرکز میں ڈاکٹر قید میں تشدد اور ہتھکڑی کے مسلسل استعمال سے کلائیاں وغیرہ زخمی ہوئے تھے اور ڈاکٹر ان زخمی اعضا کو کاٹ رہے تھے۔

یاد رہے خود ڈاکٹروں کی ایک بہت بڑی تعداد بھی اپنے طبی عملے سمیت اسرائیلی جیلوں میں قید ہے۔ پچھلے دنوں الشفا ہسپتال کے آرتھو پیڈک شعبے کے سربراہ اسرائیلی جیل میں جاں بحق ہوئے ہیں۔
امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان ویدانت پثیل نے اسرائیل سے ان الزامات کے بارے میں پوچھا ہے۔ترجمان نے کہا ' ہمیں یہ جان کر تشویش ہوئی ہے اس لیے ہم فلسطینیی قیدیوں کے حوالے سے ان سامنے والے واقعات سے متعلق الزامات سمیت دوسرے الزمات کےبارے میں بھی دیکھ رہے ہیں۔'

امریکی ترجمان نے کہا ' امریکہ نے اسرائیل کو بتا دیا ہے کہ کہ تحقیقات کے دوران بھی انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی نہ ہونے دے۔ پٹیل نے کہا ہمارا ہر ملک کے ساتھ اس سلسلے میں بڑا واضح موقف ہے کہ قیدیوں کے ساتھ انسانی اصولوں ، عزت اور وقار کا خیال رکھتے ہوئے سلوک کیا جا نا چاہیے۔ '

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں