حماس کے ایک ہزار سے زیادہ ارکان ترکیہ میں زیر علاج ہیں: ایردوان

حماس دہشت گرد تنظیم نہیں ہے: اردوان کی یونانی وزیر اعظم سے بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوآن نے پیر کو اعلان کیا ہے کہ حماس کے ایک ہزار سے زائد ارکان اس وقت ترکیہ کے ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں ۔ انہوں نے زور دیا کہ وہ حماس کو دہشت گرد تنظیم نہیں مانتے۔ ایردوان نے صحافیوں کو بتایا کہ حماس کے بہت سے ارکان جاں بحق ہوگئے ہیں اور پورا مغرب ان پر ہر قسم کے ہتھیاروں اور گولہ بارود سے حملہ کر رہا ہے۔

انہوں نے انقرہ میں یونانی وزیر اعظم مٹسوٹاکس کے ساتھ بات چیت کے بعد ایک پریس کانفرنس کے دوران مزید کہا کہ وہ حماس کو دہشت گرد تنظیم سمجھنے والے ایتھنز کے نقطہ نظر سے دکھ میں ہیں اور حماس کو اپنے مقبوضہ علاقوں کا دفاع کرنے والی مزاحمتی تنظیم سمجھتے ہیں۔ انہوں نے مغربی ممالک کی قیادت میں بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ 35000 سے زیادہ بے گناہ فلسطینی شہریوں کے قتل کے خلاف آواز بلند کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم اسرائیل کو جنگ بندی پر مجبور کرنے اور فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے اپنے سفارتی رابطے جاری رکھیں گے۔ ایک اور تناظر میں ایردوان نے کہا کہ انقرہ اور ایتھنز کے درمیان دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے اتفاق رائے روز بروز مضبوط ہو رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں