مشرق وسطیٰ

غزہ کے مستقل سے متعلق عرب ملکوں سے سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں: جیک سلیوان

’’بائیڈن انتظامیہ حماس کے ساتھ جنگ میں اسرائیلی فورسز کی کارروائیوں کے دوران غزہ میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کو قتل عام کے طور پر نہیں دیکھتی‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا ہے ’’کہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کے بعد کیا ہو گا، اس سے متعلق معاملات کے لیے عرب ملکوں کے ساتھ سنجیدہ غور وفکر کیا جا رہا ہے۔‘‘

ان خیالات کا اظہار انہوں نے واشنگٹن میں العربیہ نیوز چینل کی بیورو چیف نادیہ بلبیسی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کیا۔ سلیوان کا کہنا تھا کہ عرب ممالک فلسطینیوں کے لئے طویل المعیاد مستقبل اور واضح سیاسی افق کے متلاشی ہیں۔

جیک سلیوان نے واضح کیا کہ امریکہ تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر اس مشکل کا حل تلاش کر رہا ہے۔ نیز واشنگٹن غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل کے لئے اپنا رسوخ بھی استعمال کر رہا ہے۔

جیک سلیوان نے مزید کہا ’’کہ بائیڈن انتظامیہ حماس کے ساتھ جنگ میں اسرائیلی فورسز کی کارروائیوں کے دوران غزہ میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کو قتل عام کے طور پر نہیں دیکھتی۔‘‘

سلیوان نے وائٹ ہاؤس میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ حماس کو شکست ہو، اور یہ کہ جنگ کے اندر پھنسے ہوئے فلسطینیوں کے لیے زندگی جہنم بنی ہوئی ہے۔

قومی سلامتی کے مشیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ رفح میں اسرائیل کی کوئی بھی بڑی فوجی کارروائی ایک غلطی ہو گی۔

سیلیوان نے کہا کہ ہمارا نہیں خیال کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ قتل عام ہے۔ ہم اس رائے اور سوچ کو سختی سے مسترد کر چکے ہیں۔

صدر بائیڈن کو، جو اس سال نومبر میں اپنے عہدے کی دوسری مدت کے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، اسرائیل کی حمایت پر ملک کے اندر اپنے ہی حامیوں کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ان میں سے کچھ کا الزام ہے کہ اسرائیل غزہ میں قتل عام کا مرتکب ہوا ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 35 ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں اکثریت بچوں اور عورتوں کی ہے۔

سلیوان نے صدر بائیڈن کے ہفتے کے روز کیے گئے تبصروں کو دوہراتے ہوئے کہا کہ اگر حماس یرغمالوں کو رہا کر دے تو جنگ بندی ہو سکتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا کو حماس سے یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آئے اور معاہدے کو قبول کرے۔

سلیوان نے کہا کہ امریکہ جنگ بندی اور یرغمالوں کی رہائی کے معاہدے کے لیے تیزی سے کام کر رہا ہے۔ لیکن وہ یہ پیش گوئی نہیں کر سکتے کہ معاہدے پر کب دستخط ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں