غزہ جنگ کی وجہ سے پہلا امریکی ملٹری انٹیلی جنس افسرعہدےسے مستعفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی محکمہ دفاع کے ایک سینیر ملٹری عہدیدار نے غزہ جنگ کی وجہ سے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ گذشتہ برس سات اکتوبر سے غزہ میں جاری جنگ کی وجہ سے احتجاجا امریکی وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے استعفےدیئے ہیں مگرکسی ملٹری انٹیلی جنس افسر کا یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔

سوشل میڈیا سائٹ "لنکڈن" پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں فوجی انٹیلی جنس افسر ہیریسن من نے کہا کہ انہوں نے گذشتہ نومبر میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

ہیریسن مان کا خط
ہیریسن مان کا خط


نفسیاتی اذیت

انہوں نے وضاحت کی کہ یہ غزہ میں اسرائیلی جنگ کے لیے امریکی حمایت اور فلسطینیوں کو پہنچنے والے نقصان کے نتیجے میں انہیں پہنچنے والی ذہنی اور نفسیاتی اذیت کا نتیجہ تھا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ خوف نے انہیں چند ماہ تک استعفیٰ دینے کی وجوہات بتانے سے روک دیا۔ مجھے ڈر تھا کہ ہمارے پیشہ ورانہ معیارات کی خلاف ورزی کی جائے گی، میں ان اہلکاروں سے ڈرتا تھا جن کا میں احترام کرتا ہوں اور مجھے ڈر تھا کہ آپ کو دھوکہ دیا جائے گا۔ مان نے خط میں لکھا کہ "مجھے یقین ہے کہ آپ میں سے کچھ لوگ اسے پڑھتے ہوئے عجیب محسوس کریں گے"۔

اسرائیلی بمباری سے غزہ میں تباہی کا منظر
اسرائیلی بمباری سے غزہ میں تباہی کا منظر


"مجھے شرم محسوس ہوئی"

انہوں نے زور دے کر کہا کہ وہ شرمندہ اور خود کو مجرم محسوس کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے ملک کی پالیسی کو نافذ کرنے میں مدد کی، جس کے بارے میں ان کے بقول فلسطینیوں کا
بڑے پیمانے پر قتل عام ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ "کسی وقت جو بھی جواز ہو آپ یا تو ایسی پالیسی نافذ کرتے ہیں جس سے بچوں کو بڑے پیمانے پر بھوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یا آپ ایسا نہیں کرتے"۔

دوسری جانب ملٹری انٹیلی جنس ایجنسی کے ایک اہلکار نے رائیٹر کے سوال کے جواب میں فوجی عہدیدار ہریسن مین کے استعفے کی تصدیق کی۔ تاہم انہوں نے تفصیلات میں جانے کے بغیر نشاندہی کی کہ ایجنسی میں ملازمین کا استعفیٰ ایک معمول کا معاملہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں