ہارورڈ یونیورسٹی مشرق وسطیٰ پر بات چیت کے لیے تیار، طلبہ کا احتجاج ختم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ہارورڈ یونیورسٹی میں فلسطین اور اسرائیل کی جنگ کے خلاف طلبہ کا احتجاج ختم کر دیا ہے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹد پریس (اے پی) کے مطابق یونیورسٹی حکام کی جانب سے منگل کو مظاہرین کے سوالات پر بات کرنے کی رضامندی کے اظہار بھی بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی کئی دن تک ہنگامہ خیزی کا باعث بنا رہنے والا یہ احتجاج پرامن اختتام کو پہنچ گیا ہے۔

طلبہ کے احتجاجی گروپ ’ہارورڈ آؤٹ آف مقبوضہ فلسطین‘ نے ایک بیان میں کہا کہ کیمپ نے ’ہمارے مطالبات کے حوالے سے اب اس کیمپ کی ضرورت نہیں ہے۔‘

دوسری جانب ہارورڈ یونیورسٹی کے عبوری صدر ایلن گاربر نے طلبہ کے سوالات کے حوالے سے مظاہرین اور یونیورسٹی کے حکام کے درمیان ملاقات پر اتفاق کیا۔

رواں برس موسم بہار میں بہت سے کالج کیمپسز کے طلبہ نے اسی طرح کے کیمپ قائم کیے تھے اور اپنے سکولوں سے اسرائیل اور اس کی حمایت کرنے والے کاروباری اداروں سے تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

اسرائیل اور حماس کی جنگ کا آغاز اس وقت ہوا جب حماس اور دیگر عسکریت پسندوں نے سات اکتوبر کو جنوبی اسرائیل میں حملہ کر دیا تھا۔ اس حملے تقریباً 12 سو افراد ہلاک جبکہ 250 یرغمال بنائے گئے۔ اب بھی فلسطینی عسکریت پسندوں کے پاس تقریباً 100 افراد یرغمال ہیں۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ میں 35 ہزار سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا ہے۔

ہارورڈ یونیوسٹی نے کہا کہ اس کے صدر اور فیکلٹی آف آرٹس اینڈ سائنسز کے ڈین ہوپی ہوئکسٹرا مشرق وسطیٰ کے تنازع پر بات کرنے کے لیے مظاہرین سے ملاقات کریں گے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ انہوں نے یونیورسٹی کے حکام سے ملاقات کے لیے ایک معاہدے پر پیش رفت کی ہے جس میں ہارورڈ مینجمنٹ کمپنی بھی شامل ہے جو دنیا کی سب سے بڑی (50 ارب ڈالر کی) تعلیمی چندے کی نگرانی کرتی ہے۔

مظاہرین کے بیان میں کہا گیا ہے کہ طلبہ ایک ایجنڈا طے کریں گے دیگر امور سمیت یونیورسٹی میں ’سینٹر فار فلسطین سٹڈیز‘ کے قیام پر بات چیت ہو گی۔

طلبہ نے یہ بھی کہا کہ ہارورڈ نے 20 سے زیادہ طلبہ کارکنوں کی معطلی واپس لینے اور مزید 60 کو درپیش تادیبی اقدامات سے دستبردار ہونے کی پیشکش بھی کی ہے۔

مظاہرین کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’تین ہفتے قبل اپنے قیام کے بعد سے ان احتجاجی کیمپوں میں فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے عمل کو تقویت دی گئی۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں