اردن نے اخوان کے سیل کو ہتھیاروں کی اسمگلنگ کی ایرانی سازش ناکام بنا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اردن کی سکیورٹی فورسز نے ملک میں اخوان المسلمون سے وابستہ سیل کو ایران کی مدد سے اسلحہ کی فراہمی کی کوشش ناکام بنا دی ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری جانب غزہ میں اسرائیل اور حماس کےدرمیان جنگ جاری ہے۔

دو الگ الگ ذرائع نے وضاحت کی کہ یہ ہتھیار شام میں ایرانی حمایت یافتہ دھڑوں کی طرف سے اردن میں اخوان المسلمون سے وابستہ ایک سیل کو بھیجے گئے تھے جس کا فلسطینی تحریک حماس کے عسکری ونگ سے تعلق ہے۔

اردنی فوج شامی سرحد پر
اردنی فوج شامی سرحد پر

فلسطینی نژاد اردنی

ذرائع نے مزید کہا کہ اس ٹھکانے پر اس وقت قبضہ کیا گیا جب سیل کے ارکان جو فلسطینی نژاد اردنی تھے مارچ کے آخر میں گرفتار کیے گئے تھے۔

اخوان المسلمون کا لوگو
اخوان المسلمون کا لوگو

تاہم دونوں ذرائع نے تخریب کاری کی ان کارروائیوں کو ظاہر کرنے سے انکار کر دیا جن کی مبینہ طور پر منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کیس کی تحقیقات جاری ہیں۔

انہوں نے صرف اتنا کہا کہ اس سازش کا مقصد اردن کو غیر مستحکم کرنا تھا جو غزہ جنگ میں ایک علاقائی فلیش پوائنٹ بن سکتا ہے۔ چونکہ اس میں ایک امریکی فوجی اڈہ ہے اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ شام اور عراق دونوں کی سرحدیں بھی مشترک ہیں جہاں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کے مراکز ہیں۔

اردنی سرحد پر شامی فوج
اردنی سرحد پر شامی فوج

انہوں نے مارچ میں پکڑے گئے ہتھیاروں کی بھی وضاحت نہیں کی، حالانکہ ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی سروسز نے حالیہ مہینوں میں ایران اور اس کے اتحادی گروپوں کی جانب سے کلائمور بارودی سرنگیںور سیمٹیکس دھماکہ خیز مواد، کاتیوشا رائفلز، 'سی فور' بارودی سرنگیں اور دیگر ہتھیار شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں