بھارت نے ایران سے چاہ بہار معاہدے پر امکانی امریکی پابندیاں مسترد کر دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارتی وزیر خارجہ جےشینکر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ اسٹریٹجک بندرگاہ کے منصوبے کے فوائد پر نظر ہے۔ امریکہ سے پابندیوں کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اگر پابندیاں لگائی گئیں بھارت ان امریکی پابندیوں کو مسترد کر دے گا۔

بھارت نے طویل عرصے پر پھیلے تعطل کے بعد اسی ہفتے ایران کے ساتھ چاہ بہار بندرگاہ کو چلانے اور ترقی دینے کے لیے دس سالہ معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ بھارت مغربی ملکوں اور وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے کی کوششش میں ہے۔ چا بہار کا معاہدہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

دلچسپ بات ہے کہ امریکہ کے بھارت کے ساستھ تعلقات جس قدر گرمجوشی پر مبنی ہیں اسی قدر اس کے ایران کے ساتھ تعلقات کی نوعیت مخالفانہ ہے۔ اسرائیل کی غزہ جنگ کے دوران ایران کی حمایت یافتہ تنظیموں کی طرف سے حماس کی حمایت پر امریکہ ایران کی مزید مخالفت پر اتر آیا ہے۔

ایرانی مذہبی حکومت، جوہری پروگرام اور اسرائیل کے ساتھ ایرانی دشمنی کے علاوہ یوکرین جنگ میں روس کو ڈرون طیاروں کی فراہم ی بھی امریکہ کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ ایران پر امریکہ اور مغربی ملکوں نے کئی قسم کی اقتصادی پابندیاں لگا رکھی ہیں۔

ان پابندیوں کی وجہ سے دوسرے ملک اور دوسرے ملکوں کی تجارتی کمپنیاں ایران کے ساتھ کاروباری معاہدے نہں کر سکتے ہیں، تاہم بھارت نے ایران کے ساتھ چاہ بہار بندر گاہ کے سلسلے میں دس سالہ معاہدہ کیا ہے ، جس سے نادیشہ ہے کہ امریکہ اس معاملے کو نظر انداز نہیں کرے گا۔

اسی پس منظر میں بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے منگل کی شام کولکتہ شہر میں ایک عوامی تقریب کے دوران کہا ہے ' چاہ بہار کا معاہدہ ایک بڑے فائدے کے لیے ہے۔ اس کے لیے قائل کرنے اور بات چیت کی ضرورت ہے۔'

ان کا یہ بھی کہنا تھا ماضی میں امریکہ چاہ بہار کے بارے میں امریکہ کے اپنے رویے کو دیکھیں تو امریکہ اسکی تعریف کرتا رہا ہے کہ چاہ بہار کی اہمیت تسلیم کرتا رہا ہے۔ خیال رہے جب امریکی فوج افغانستان میں موجود تھی تو اس نے ایران کی چاہ بہار بندر گاہ کسی حد تک قبول کرلیا تھا، امریکہ اپنے مفادات کے لیے افغانستان کے تناظر میں اتحادی بھارت کو راضی رکھنا چاہتا تھا۔ لیکن اب امریکہ نے انتباہ کیا ہے کہ چاہ بہارکا معاہدہ کرنے والوں پر بھی پابندیاں لگ سکتی ہیں۔

امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان ویدانت پٹیل نے پریس بریفنگ میں کہا کہ کوئی بھی ادارہ یا ملک ہو ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے پر پابندیوں کا نشانہ بن سکتا ہے۔ اس لیے متعلقین کو خبر دار رہنا چاہیے۔ بھارت اور ایران کے درمیان چاہ بہار کے سلسلے میں معاہد 370 ملین ڈالر کی مالیت کا ہے۔ یہ سرمایہ کاری بھارت کرے گا

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں