رفح پر اسرائیلی حملہ ایسی بڑی بات نہیں کہ اسرائیل کو اسلحہ روک دیں : برطانیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

برطانیہ نے زور دے کر کہا ہے کہ اسرائیل کے لیے اسلحے کی فراہمی جاری رہے گی۔ رفح پر اسرائیلی حملے کی وجہ سے اسرائیل کو اسلحہ دینا بند یا معطل نہیں کریں گے۔ یہ بات نائب وزیراعظم برطانیہ نے منگل کے روز کہی ہے۔

انہوں نے دو ٹوک کہا کہ رفح میں اسرائیل نے ایک مکمل اور بھرپور جنگی حملہ بھی کیا تو اس کو بنیاد بنا کر اسرائیل کو اسلحہ دینا بند نہیں کریں گے۔

ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے اسرائیل کے لیے 3500 'ان گائیڈڈ' بوئنگ بموں کی ترسیل روکی ہے اور کہا ہے کہ رفح پر بغیر منصوبہ کے حملے کے ایسا کیا جا رہا ہے۔ خیال رہے امریکہ نے دوسرے ہتھیاروں کی ترسیل اسرائیل کے لیے بند نہیں کی ہے۔

امریکہ کا بوئنگ ساختہ 'ان گائیڈڈ' بموں کی ترسیل روکنے کا یہ فیصلہ اس تناظر میں کیا گیا ہے کہ انتخابات کا مرحلہ قریب ہے اور امریکہ کی اسرائیل کے حق میں جوبائیڈن انتظامیہ کی پالیسی پر نوجوانوں میں سخت تنقید کی جارہی ہے۔

جوبائیڈن کو اپنی انتخابی کامیابی کے لیے بھی اسرائیلی جنگ کی نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مخالفت خطرے کی گھنٹی لگتی ہے۔ اسی لیے یونیورسٹیوں کے سینکڑوں طلبہ کو گرفتار کر کے جنگ مخالف تحریک دبانے کی کوشش کی گئی ہے۔

برطانیہ میں بھی اسرائیل نواز پالیسی اور اسرائیل کو اسلحہ دینے کے خلاف اگرچہ احتجاج ہوا ہے مگر برطانیہ پوری طرح سے اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔

خیال رہے سات اکتوبر سے جاری اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں اب تک 35091 فلسطینی قتل ہوئے ہیں۔ جن میں زیادہ تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔ بچوں اور خواتین کی اتنی بڑی تعداد میں یہ ہلاکتیں انسانی حقوق پر یقین رکھنےوالوں کے لیے امریکہ و یورپ میں بھی سخت پریشانی کا باعث ہیں۔

برطانیہ کے نائب وزیر اعظم نے یہ بات سعودی عرب میں تجارت سے متعلق کانفرنس کی سائڈ لائنز میں گفتگو کے دوران کہی کہ محض کسی ایک چیز کو وجہ بنا کر اسرائیل کے لیے اسلحے کی فراہمی نہیں روکیں گے۔

چند روز پہلے برطانوی وزیر خارجہ نے بھی اسرائیل کے لیے اسلحے کی فراہمی کے بارے میں پورے اعتماد کے ساتھ کہا تھا کہ اسرائیل کو اسلحہ کی برآمد جاری رکھیں گے۔ ڈیوڈ کیمرون نے اس سلسلے میں کہا تھا اسرائیل کو اسلحہ کی سپلائی روکنے کا مطلب حماس کی حمایت کرنا ہوگا۔

نائب وزیراعظم ڈاؤڈن سے سوال پوچھا گیا اگر اسرائیل رفح پر حملہ کرتا ہے تو کیا برطانیہ اسے اسلحہ کی سپلائی روک دے گا۔ انہوں نے جواباً کہا 'اسرائیل کی طرف سے رفح میں اسرائیلی حملہ ایسی بڑی بات نہیں ہے کہ محض اس کی بنیاد پر برطانیہ اسرائیل کے ابرے میں اپنی پالسیسی میں کوئی تبدیلی کرے یا اسلحہ روک دے۔'

اسرائیلی زمینی فوج ٹینکوں سمیت رفح میں ایک ہفتہ پہلے داخل ہوچکی ہے۔ رفح میں پناہ لیے ہوئے فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج نے جبری طور پر نکالنا شروع کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اب تک ساڑھے چار لاکھ فلسطینی رفح سے جبری طور پر نقل مکانی پر مجبور کیے جا چکے ہیں۔ جنہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ ان کو آگے کہاں پناہ ملے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں