اسرائیل کا مصر سے رفح کراسنگ کھولنے پر زور، "کراسنگ کی بندش کا ذمہ دار اسرائیل ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر کی سرحد سے ملحقہ شہررفح پر حملے،اسرائیل کی جانب سے رفح زمینی گذرگاہ کا کنٹرول فلسطینیوں کی جانب سے سنبھالنے کے بعد اسرائیلی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کو نہیں بلکہ مصر کو رفح کراسنگ کو دوبارہ کھولنا چاہیے تاکہ غزہ میں انسانی امداد پہنچائی جا سکے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ کے بیان پر قاہرہ نے اپنا ردعمل دیا ہے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ یسرائیل کاٹزنے کہا کہ "غزہ میں انسانی بحران سے بچنے کا کام اب ہمارے مصری دوستوں ہے"۔

اسرائیلی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ حماس رفح کراسنگ کو کنٹرول نہیں کرے گی اوریہ سکیورٹی کی ضرورت ہے جس پر ہم کوئی رعایت نہیں کریں گے۔

مصری وزیر خارجہ کا جواب

دوسری جانب مصری وزیر خارجہ سامح شکری نے اسرائیلی وزیر کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہم حقائق بتانے کی پالیسی کو مسترد کرتے ہیں اور اسرائیل غزہ کی پٹی میں انسانی بحران کا ذمہ دار ہے۔

سامح شکری نے کہا کہ رفح کراسنگ کے فلسطینی حصے پر اسرائیلی کنٹرول اور کراسنگ کے آس پاس اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور اس کے نتیجے میں امدادی کارکنوں اور ٹرک ڈرائیوروں کی زندگیوں کو نقصان پہنچا ہے۔ خطرات، کراسنگ کے ذریعے امداد لانے میں ناکامی کی بنیادی وجہ ہیں۔

شکری نےاسرائیل کی جانب سےغزہ کو درپیش بحران کا ذمہ دار مصر کو ٹھہرانے کی مایوس کن کوششوں کی بھی سختی سے مذمت کی اور اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ قابض طاقت کے طور پراپنی ذمہ داریوں کو اپنے زیر کنٹرول دیگر زمینی بندرگاہوں سے داخل ہونے کی اجازت دے کر پوری کرے۔

اسرائیل کے بیانات میں کوئی صداقت نہیں

درایں اثنا ایک اعلیٰ سطحی ذریعے نے قاہرہ نیوز چینل کو بتایا کہ مصر نے اسرائیل کو غزہ کی پٹی میں امداد کو روکنے کےخطرے سے آگاہ کیا۔

انہوں نےکہا کہ "اسرائیلی وزیر خارجہ نے رفح کراسنگ کو بند کرنے کی مصر کی ذمہ داری کے بارے میں جو کہا اس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ کراسنگ کی بندش رفح شہر میں اسرائیل کی طرف سے کی جانے والی بلاجواز کشیدگی کی وجہ سے ہوئی۔

سفارتی تعلقات میں کمی

وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق مصری حکام نے اشارہ دیا کہ قاہرہ اب تل ابیب سے اپنے ملک کے سفیر کو واپس بلا کر اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو کم کرنے پر غور کر رہا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ موجودہ تصادم کا آغاز اس وقت ہوا جب اسرائیل نے مصر کو گذشتہ ہفتے رفح بارڈر کراسنگ کے فلسطینی حصے پر اسرائیلی فوج کا کنٹرول سنبھالنے کا صرف چند گھنٹوں کا نوٹس دیا، اس سے قبل یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ کراسنگ، جو کہ انسانی امداد کے لیے داخلے کا ایک اہم مقام ہے وہاں کے فلسطینیوں کو علاقے سے بہ حفاظت نکالنے کے لیے ہفتوں کا وقت دیا جائے گا۔

واقعات سے واقف ایک مصری اہلکار نے کہا کہ "ان میں سے کوئی بھی یقین دہانی پوری نہیں ہوئی، کیونکہ اسرائیل نے ہمیں کراسنگ میں داخل ہونے کے بارے میں بہت مختصر نوٹس دیا تھا"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں