امریکہ-خلیج تعاون کونسل کے دفاعی ورکنگ گروپس کا مربوط فضائی نظام

ملاقات امریکہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مشترکہ فوجی مشقوں کے سلسلے میں ہوئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سینئر امریکی حکام اگلے ہفتے ایک وفد کے حصے کے طور پر سعودی عرب جائیں گے۔ یہ وفد امریکہ-خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے دفاعی ورکنگ گروپس کے اگلے اجلاس کی میزبانی کرے گا۔

ایک امریکی فوجی اہلکار نے العربیہ کو بتایا کہ ملاقاتوں کا مقصد امریکی-جی سی سی تعاون اور مشترکہ فضائی و سمندری خطرات کے خلاف کثیر الجہتی انضمام میں پیش رفت ہے۔

شرقِ اوسط کے لیے پینٹاگون کے اعلیٰ عہدیدار ڈین شاپیرو امریکی وفد کی قیادت کریں گے جس کی ملاقات 22 مئی سے شروع ہوگی۔ فریقین مربوط فضائی اور میزائل دفاع (آئی اے ایم ڈی) اور میری ٹائم سکیورٹی تعاون کو بہتر کرنے کے طریقوں پر تازہ معلومات اور خیالات کا تبادلہ کریں گے۔

گذشتہ مہینے امریکی اور اماراتی حکام نے پینٹاگون میں سالانہ امریکہ-متحدہ عرب امارات مشترکہ فوجی مکالمے کے لیے ملاقات کی جس میں خصوصی بات چیت مربوط فضائی اور میزائل دفاع اور ابھرتی ہوئی صلاحیتوں پر تعاون پر مرکوز تھی۔

فوجی اہلکار نے مزید کہا، "یہ تقریب پالیسی پر مرکوز اور تزویراتی نوعیت کی ہے اور سیکریٹری دفاع کے دفتر کے علاوہ جوائنٹ سٹاف، میزائل دفاعی ایجنسی، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام)، امریکی بحریہ کی سینٹرل کمانڈ، فضائیہ سینٹرل اور دفاعی سکیورٹی تعاون کی ایجنسی کے سینئر سویلین اور فوجی نمائندوں کو مجتمع کرے گی۔

گذشتہ سال امریکی وفد میں محکمۂ خارجہ کے اہلکار شامل تھے جن کی قیادت اس وقت کے امریکی خصوصی ایلچی برائے ایران راب میلے کر رہے تھے۔ اس کے بعد سے ان کی سکیورٹی کلیئرنس منسوخ کردی گئی ہے اور انہیں ایک معاملے پر وفاقی تحقیقات تک چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے۔ العربیہ نے محکمۂ خارجہ سے یہ پوچھنے کے لیے رابطہ کیا ہے کہ کیا وہ اگلے ہفتے ہونے والی ملاقاتوں میں کوئی نمائندہ بھیجیں گے۔

جی سی سی کے تمام ارکان حسبِ ضرورت اور موافق کی سطح کی نمائندگی بھیجیں گے۔

ان ملاقاتوں سے پہلے امریکی صدر جو بائیڈن کے قومی سلامتی کے اعلیٰ معاون اس ہفتے کے آخر میں سعودی عرب میں ایک سینئر وفد کی قیادت کریں گے لیکن ان کا دفاعی تعاون کے معاملات سے براہِ راست تعلق نہیں ہو گا۔ مہینوں سے جاری اسرائیل-حماس جنگ کے درمیان قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان اور وائٹ ہاؤس کے دیگر اعلیٰ حکام کے بھی اسرائیل جانے کی توقع ہے۔

واشنگٹن اور اس کے جی سی سی کے اتحادیوں نے مئی 2015 میں کیمپ ڈیوڈ سمٹ کے بعد ایک شراکت قائم کی تھی جس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، عمان، قطر اور بحرین نے علاقائی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط شراکت قائم کرنے کا عہد کیا۔

وائٹ ہاؤس نے کہا، "یہ شراکت داری خطے کی سلامتی، استحکام اور خوشحالی کو بہتر بنانے کے لیے باہمی اور دوطرفہ وعدوں پر مبنی ہے۔"

بے مثال امریکہ-خلیج فوجی رابطہ کاری

اگلے ہفتے کی دفاعی ملاقاتیں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور امریکہ کے درمیان گذشتہ ہفتے کی مشترکہ فوجی مشقوں کے فوراً بعد ہو رہی ہیں۔

نیٹِو فیوری 24 فوجی مشق (این ایف 24) نے بحیرۂ احمر میں سعودی بندرگاہ کی سہولت، سعودی عرب کے شہزادہ سلطان ایئر بیس، متحدہ عرب امارات کے الظفرہ ایئر بیس اور خلیج عمان میں متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ کی سہولت کا استعمال کیا۔

این ایف 24 نے امریکی اور شراکت دار افواج کی آن لوڈ اور آف لوڈ کارروائیوں میں شمولیت کا مظاہرہ کیا جس کے لیے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں تجارتی بحری جہاز رانی، طویل فاصلے کے قافلوں، شہری جنگی تربیت اور مختلف متحرک تربیتی پروگراموں کا استعمال کیا گیا۔

ایک امریکی دفاعی اہلکار نے العربیہ کو بتایا کہ این ایف 24 فوجی مشق کا مقصد تھا کہ فوجیوں اور ساز و سامان کی میری ٹائم لاجسٹکس کو منظم اور پھر ان فوجیوں اور ان کے تمام سامان کو جزیرہ نما عرب میں مؤثر طریقے سے منتقل کرنے کے لیے تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ صلاحیتوں کی مشق کی جائے۔ اہلکار نے کہا، "علاقائی مشقوں میں شمولیت سے ہمارا مقصد ہے کہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ باہمی تعاون کو بڑھایا جائے اور علاقے میں بحرانوں اور دیگر ہنگامی حالات کے ممکنہ ردعمل کے لیے تیاری کیا جائے۔"

اگرچہ این ایف 24 آٹھویں مرتبہ کی گئی لیکن اس سال کئی منفرد کامیابیاں حاصل ہوئیں۔

اہلکار نے کہا کہ اس میں امریکی بحری لاجسٹک فارمیشنز میں امریکی فوج کے خود مختار ٹیکٹیکل وہیکل سسٹمز کا پہلی بار انضمام اور امریکہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان پہلی کثیرالجہتی تکرار شامل ہے۔

اس سال کی کثیر الجہتی تکرار کے مقابلے میں سابقہ تکراریں دو طرفہ مشقوں تک محدود تھیں۔

سینٹ کام نے ایک بیان میں کہا، "این ایف 24 شاہی سعودی مسلح افواج اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے ساتھ امریکی فوج کے تعاون میں ایک اہم سنگِ میل کی نمائندگی کرتی ہے جس سے پائیدار تعاون کے مثبت نتائج ظاہر ہوتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں