حماس قیادت سے ملائیشین وزیر اعظم کی ملاقات بارے اتاری گئی پوسٹیں فیس بک پر بحال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ملائیشیا کی حکومت کی طرف سے سخت رد عمل ظاہر کرنے کے بعد فیس بک کے میٹا نے وزیر اعظم ملائیشیا انور ابراہیم کی حماس کی قیادت کے ساتھ ملاقات سے متعلق پوسٹس کو بحال کر دیا ہے۔ فیس بک میں مبینہ طور پر اسرائیلی اثر ورسوخ میں ہونے کے باعث حماس قیادت کے ساتھ ملاقات کے حوالے سے انور ابراہیم کی پوسٹس ہٹا دی تھیں۔

فیس بک جو اب میٹا کے نام سے خود کو متعارف کراتا ہے نے ہمیشہ سے ایک پالیسی بنا رکھی ہے کہ فلسطین اور کشمیر سے پوسٹس کو سخت چھلنی سے گذارتا ہے۔ اور اکثر ایسا ہو تا ہے کہ لوگوں کے حق رائے اور حق اظہار کی پروا کیے بغیر ان پوسٹوں کو ہٹا دیا جاتا ہے۔

دوحہ میں وزیر اعظم انور ابراہیم کی حماس قائدین کے ساتھ ہونےوالی ملاقات کے حوالے سے ملائیشین حکام نے خود پوسٹس لگائی تھیں۔ مگر فیس بک نے انہیں اتار دیا ، کہ اسرائیل کےلیے کوئی بھی ناگوار چیز فیس بک فوری ہٹانے کا اہتمام کرتا ہے۔

اسبارے میں ایک روز قبل ن ملائیشین حکومت کے ترجمان نے سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سلسلے میں فیس بک میٹا سے جوااب لیا جائے گا۔ تاہم ملائیشین حکومت کا سخت ردعمل کے بعد فیس بک نے ان پوسٹس کو واپس بحال کر دیا ہے اور کہا وہ تکنیکی غلطی کی وجہ سے اتر گئی تھیں۔

واضح رہے ملائیشین حکومت کو اس سے پہلے بھی شکایات موسول ہوئی تھیں کہ فلسطین کاز کے حق میں لگائی جانے والی پوسٹس اور اتصاویر کو فیس بک کی انتظامیہ فیس بک والز سے ہٹا دیتی ہے۔ اس کا نوٹس لیتے ہوئے ملائیشین حکومت نے اعلان کیا تھا کہسوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف اس حرکت کی بنیاد پر کارروائی کی جاسکتی ہے۔

انور ابراہیم نے حماس کی سیاسی قیادت کے ساتھ دوحہ میں ملاقات کے بعد بیان میں کہا تےھا ان کے حماس کی سیاسی قیادت کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں مگر عسکری ونگ سے کوئی تعلقات نہیں ہیں۔

اس کے باوجود انور ابراہم کی لگائی پوسٹس ہٹانے کے کا نوٹس لیتے ہوئے ملائیشیا کی طرف سے میٹا کو خط لکھا گیا تھا۔ نیز فلسطین کاز سے متعلق کام کرنےوالے میڈیا آؤٹ لیٹ 'ملائیشیا گزٹ' سے تعلق رکھنے والے فیس بک اکاؤنٹ کو گذشتہ ماہ معبند کر دیے جانے کے حوالے سے بھی خط میں وضاحت طلب کی گئی تھی۔

میٹا کے ترجمان نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے ' روئٹرز ' کو ایک ای میل کے ذریعے اپنے موقف سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے ' دو پوسٹیں غلطی کی وجہ سے ہٹا دی دی گئی تھیں اب انہیں بحال کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب ملائیشیا گزٹ نے بھی اعلان کیا ہے کہ میٹا نے اس کا فیس بک اکاؤنٹ بحال کر دیا گیا ہے۔ میٹا نے اپنے فیس بک پلیٹ فارم سے کہا ہے کہ وہ جان بوجھ کر لوگوں کی آوازوں کو نہیں دباتا ہے۔ نیز اس دعوے میں بھی سچائی نہیں کہ فیس بک فلسطینیوں کے حق میں مواد کو محدود کرنے کی کوشش میں ہے۔

لیکن خیال رہے میٹا نے ایک سیاسی و پارلیمانی جماعت کی شروع سے شناخت رکھنے والی تنظیم حماس کو شروع سے ایک 'خطرناک تنظیم ' کے طور پرعملاً پابندی لگا رکھی ہے کہ حماس کے بارے میں مثبت کوئی بھی چیز پوسٹس کا حصہ نہ بنے۔ فیس بک انتظامیہ اس سلسلے میں فوری اقدام کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں